اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 122
By Maulana Wahiduddin Khan
کریں ۔ اس سلسلہ میں ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: لَمَّا بَعَثَ عَلِيٌّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ وَالْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ إِلَى الْكُوفَةِ لِيَسْتَنْفِرَهُمْ ، خَطَبَ عَمَّارٌ فَقَالَ: إِنِّي لَأَعْلَمُ أَنَّهَا زَوْجَتُهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَلَكِنَّ اللَّهَ ابْتَلَاكُمْ بِهَا ، لِيَنْظُرَ إِيَّاهُ تَتَّبِعُونَ أَوْ إِيَّاهَا (السنن الكبرى للبيهقي ، اثر نمبر 16717)۔ یعنی جب علی ابن ابی طالب نے عمار اور حسن کو کوفہ بھیجا تا کہ وہ انھیں جنگ میں نکلنے کے لیے ابھاریں تو عمار نے تقریر کرتے ہوۓ کہا: میں جانتا ہوں کہ عائشہ دنیا اور آخرت میں تمھارے پیغمبر کی بیوی ہیں۔ مگر اللہ نے اس کے ذریعہ سے تم کو آزمایا ہے تا کہ دیکھے کہ تم علی کا ساتھ دیتے ہو یا عائشہ کا۔ اتنی نازک بات کو اس سے زیادہ کم الفاظ میں شاید نہیں کہا جا سکتا۔ 19 جون 1985 ہر دو آدمی کے درمیان ان کا خدا کھڑا ہوا ہے۔ خدا ہر وقت ہر آدمی کی بات سن رہا ہے تا کہ اس کے مطابق لوگوں کے درمیان انصاف کرے۔ اگر آدمی کو اس واقعے کا احساس ہو تو اس کا وہی حال ہوگا، جو ایک آدمی کی عدالت میں ہوتا ہے۔ عدالت میں ہر آدمی بالکل ناپ تول کر بولتا ہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ اگر کوئی بات خلاف قاعدہ منہ سے نکل گئی تو وہ فوراً عدالت کی پکڑ میں آجائے گا۔ اسی طرح اللہ پر عقیدہ رکھنے والا جو کچھ بولتا ہے، اس احساس کے تحت بولتا ہے کہ خدا اس کو سن رہا ہے۔ یہ احساس اس کو مجبور کر دیتا ہے کہ وہ کوئی غلط بات اپنے منہ سے نہ نکالے۔ انسان سے اگر غلطی ہو جائے اور وہ فوراً اس کا اعتراف کرلے تو گویا کہ اس نے خدا کے سامنے اعتراف کیا۔ اور اگر وہ غلطی کا اعتراف نہ کرے تو گویا کہ اس نے خدا کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ سارا معاملہ خدا کا معاملہ ہے۔ لوگ معاملات کو انسان کا معاملہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سرکشی اور بے انصافی کرتے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader