اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ غلطی کر کے بھی غلطی کا اعتراف نہیں کرتے۔ میرا مزاج یہ ہے کہ اگر میں کوئی خلاف حق بات کہہ دوں اور اس کے بعد مجھے معلوم ہو کہ یہ بات حق کے خلاف تھی تو میں اس کو افورڈ (afford) نہیں کر سکتا کہ میں اس کا اعتراف نہ کروں۔ میں حق کے آگے جھک نہ جاؤں۔ اگر میں ایسا نہ کروں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خدا خود ظاہر ہو کر میرے سامنے آیا اور کہا کہ میرے سامنے جھک جا اس کے باوجود میں خدا کے سامنے نہیں جھکا۔ حق کے سامنے نہ جھکنا ایسا ہی ہے گویا کسی کے سامنے خدا آیا، اور وہ اس کے سامنے نہیں جھکا۔ 20 جون 1985 ایک شخص نے اپنا دل چسپ تجربہ ان الفاظ میں لکھا ہے: “A fast way of becoming a millionaire”, read the ad in the newspapers. “For further particulars send a self-addressed stamped envelope along with Rs. 1”. Intrigued, I sent off the money and received the following reply: “Start a scheme just like this one.” (Dilip Rendalkar, Secunderabad) ”جلد کروڑ پتی بننے کا طریقہ“ اس عنوان سے میں نے اخبارات میں ایک اشتہار پڑھا۔ اسی کے ساتھ اشتہار میں یہ درج تھا کہ مزید تفصیلات کے لیے اپنا پتہ لکھے ہوئے لفافہ کے ساتھ ایک روپیہ بھیجیں۔ میرا اشتیاق بڑھا۔ میں نے مطلوبہ رقم بھیج دی۔ اس کے بعد مجھے ایک جواب ملا، جس میں یہ لکھا تھا— اسی طرح کی ایک اسکیم آپ بھی شروع کر دیجیے۔ تجارت کے دو طریقے ہیں۔ ایک معروف تجارت، اور دوسری وہ جس کو جھوٹی امیدوں کی تجارت (false hopes business) کہا جا سکتا ہے۔ مذکورہ واقعہ ”جھوٹی امیدوں کی تجارت“ کی ایک دلچسپ مثال ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader