27 جون 1985
Urdu book, p. 128
By Maulana Wahiduddin Khan
مثلاً اسلام میں ایک شخص بلا واسطہ خدا کی عبادت کر سکتا ہے۔ ہم چوں کہ روزانہ مسجد میں جا کر نماز پڑھتے ہیں، ہمیں اس کی اہمیت کا احساس نہیں ہوتا۔ مگر ایک غیر مسلم جب دیکھتا ہے کہ نماز کا وقت آیا، اور مسلمان نے خدا کی طرف رخ کر کے اپنی عبادت شروع کردی۔ وہ کسی واسطہ کے بغیر براہِ راست اپنے خدا سے مربوط ہو گیا، تو اس کو یہ بات بہت زیادہ اسٹرائیک (strike) کرتی ہے۔ اسی طرح اسلام میں ہر حکم کے ساتھ رعایتی دفعہ بھی شامل ہے۔ مثلاً وضو نہ کر سکو تو تیمم کر لو۔ کھڑے ہو کر نماز پڑھنا مشکل ہو تو بیٹھ کر نماز پڑھ لو، وغیرہ۔ اسی قسم کی چیز ان لوگوں کو بہت زیادہ متاثر کرتی ہیں جنھوں نے دوسرے مذاہب کے ماحول میں پرورش پائی ہے۔ کیوں کہ دوسرے مذاہب میں صرف ”عزیمت“ کے احکام ہیں، ان کے ہاں ”رخصت“ کے احکام نہیں۔ اسی طرح دوسرے مذاہب میں عبادتی مراسم (rituals) کی بھر مار ہے۔ ان مراسم میں معمولی فرق کا مطلب یہ سمجھا جاتا ہے کہ آدمی کی عبادت ہی ادا نہیں ہوئی۔ اس قسم کی سادگی جو اسلام میں ہے، وہ اس کے لیے ایک زبر دست تبلیغی قوت کی حیثیت رکھتی ہے۔ دورِ اول میں اسلام جو اتنی زیادہ تیزی کے ساتھ پھیلا، اس کی کم از کم ایک وجہ یہی تھی۔ دوسرے مذاہب میں لوگ اصرار اور اغلال کے بوجھ کے نیچے دبے ہوئے تھے۔ اسلام نے ان کو سیدھا سادہ فطری مذہب پیش کیا۔ وہ فوراً اس کی طرف دوڑ پڑے۔ بد قسمتی سے بعد کے دور میں مسلمانوں نے بزعم خود اسلام کی تعلیمات کو مفصل اور جامع بنانے کے لیے اس میں اضافے شروع کیے۔ فقہی اضافے، کلامی اضافے، اعتقادی اضافے اور صوفیانہ اضافے ۔ ان اضافوں نے اسلام کے اوپر ایک مصنوعی پردہ ڈال کر اس کو اس کی فطری کشش سے محروم کر دیا۔ بعض لوگ قرآن میں ”اختلاف قرأت“ کے مسئلہ کو لے کر قرآن کی حفاظت کو مشتبہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader