Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 129

By Maulana Wahiduddin Khan

ظاہر کرتے ہیں۔ یہ سراسر مغالطہ ہے۔ ان کو جاننا چاہیے کہ قرآن میں اختلافِ قرأت ہے، اختلافِ کتابت نہیں۔ یعنی تمام دنیا کے سارے قرآن ایک ہی طرز پر لکھے جاتے ہیں۔ اس میں کسی کے یہاں کوئی اختلاف نہیں۔ اب جو فرق ہے وہ قرأت کا ہے۔ یعنی قرآن کو پڑھنے میں لوگ کئی آوازوں کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ مثلاً کچھ قبائل رب الناس کو رب البنات پڑھتے تھے۔ کچھ لوگ رَبَّک کو رَبَّش پڑھتے تھے، وغیرہ (البریان فی علوم القرآن، جلد 1، صفحہ 220)۔ اختلافِ قرأت، بالفاظ دیگر لہجہ کا اختلاف ہر زبان میں ہوتا ہے۔ مثلاً انگریزی کو لیجیے۔ poet کو تمام ملکوں میں اسی طرح لکھا جاتا ہے مگر اس کو پڑھنے میں فرق ہے۔ مثلاً امریکہ کے لوگ اس کو پائٹ پڑھتے ہیں اور انگلینڈ کے لوگ پواٹ کہتے ہیں۔ اسی طرح salt کو ہندوستان میں سالٹ کہا جاتا ہے۔ مگر یہی لفظ برطانیہ میں سوٹ کی آواز میں پڑھا جاتا ہے۔ جب کہ لکھنے کے اعتبار سے ہر جگہ اس کو ایک ہی طریقہ سے لکھا جاتا ہے۔ قرآن اپنی کتابت کے اعتبار سے بلا شبہ محفوظ ہے، اور صد فی صد (%100) محفوظ ہے۔ اب جو بعض فرق ہے وہ لہجہ اور تلفظ کا فرق ہے۔ اور لہجہ اور تلفظ کا فرق فطری ہے، وہ نہ ختم ہوتا اور نہ اس سے کوئی خرابی واقع ہوتی ہے۔ 29 جون 1985 مستشرقین نے حدیث کو مشتبہ ثابت کرنے کے لیے جن چیزوں کو بنیاد بنایا ہے، ان میں سے ایک حضرت ابو ہریرہ کی کثیر روایات ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ نے ہجرت کے بعد اسلام قبول کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کی صحبت غزوہ خیبر کے بعد شروع ہوئی۔ اس اعتبار سے حضرت ابو ہریرہ کی صحبت رسول ان کثیر روایات کے لیے ناکافی ہیں جو ان سے مروی ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page