Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 146

By Maulana Wahiduddin Khan

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت جبرئیل کی تصویر تھی جو چھاپنے کے وقت چھاپ دی گئی۔ اس کے بعد مسلمانوں (عربوں) کے اعتراض کی بنیاد پر مٹا دی گئی۔ مگر ضروری نہیں کہ تمام نسخوں میں اس کو مٹایا گیا ہو۔ عین ممکن ہے کہ صرف ان نسخوں میں مٹایا گیا ہو جو مشرقی ممالک کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ اس انسائیکلوپیڈیا میں اس طرح کے بہت سے صفحات ہیں۔ 22 جولائی 1985 ایک زندہ اور طاقتور خدا پر یقین کرنا اتنا عجیب ہے کہ ماننے والے بھی اس کو نہیں مانتے اور جاننے والے بھی اس کو نہیں جانتے۔ خدا مکمل طور پر ظاہر ہونے کے باوجود مکمل طور پر چھپا ہوا ہے۔ وہ اپنی تخلیق میں مکمل طور پر ظاہر ہے مگر اپنی ذات میں وہ مکمل طور پر پوشیدہ ہے۔ براہ راست طور پر اس کا مشاہدہ موجودہ دنیا میں آخری حد تک ناممکن ہے۔ مگر بالواسطہ طور پر اس کا مشاہدہ آخری حد تک ممکن ہے۔ یہی واحد وجہ ہے، جس کی بنا پر لوگ شخصیتوں میں اٹکے ہوئے ہوتے ہیں۔ خدا ان کو دکھائی نہیں دیتا، اور شخصیتیں ان کو دکھائی دیتی ہیں۔ مگر انسان کا اصل امتحان یہ ہے کہ وہ شخصیتوں کے تقدس کا پردہ پھاڑ کر خدا کو دیکھے۔ 23 جولائی 1985 مسلم اہل علم نے اسلام اور مغربی تہذیب کے تقابل پر جو کتابیں لکھی ہیں، ان میں مشترک طور پر چند غلطیاں پائی جاتی ہیں : (1) انھوں نے مغربی سماج کے چند واقعات کو لے کر اسے generalize کر دیا ہے۔ اس طرح انھوں نے خاص کو عام بنانے کی غلطی کی ہے۔ اس قسم کی تحریروں کو پڑھ کر مسلمان خوش ہو سکتے ہیں۔ کیوں کہ انھیں یہ تسکین ملتی ہے کہ اُن کے ” دشمن“ کا سماج بہت بُرا سماج ہے۔ مگر ان تحریروں سے خود مغرب کے لوگ کوئی اچھا اثر نہیں لے سکتے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page