Urdu book · اوراقِ حکمت

23 جولائی 1985

Urdu book, p. 147

By Maulana Wahiduddin Khan

(2) دوسری چیز یہ کہ ان تحریروں میں آئیڈیالوجی کا تقابل پریکٹس (عمل) سے کیا گیا ہے۔ یعنی اسلام سے تو نظریات و اقدار لی گئی ہیں اور جدید سماج سے ان کا عمل۔ یہ تقابل درست نہیں۔ تقابل ہمیشہ دو برابر کی چیزوں میں ہوتا ہے۔ یعنی تقابل یا تو آئیڈیالوجی سے آئیڈیالوجی کا ہونا چاہیے یا پریکٹس سے پریکٹس کا۔ اس قسم کا غیر علمی لٹریچر دعوت کے لیے کبھی مفید نہیں ہوسکتا۔ وہ مسلمانوں میں جھوٹا فخر پیدا کر سکتا ہے۔ مگر وہ دعوت عام کے لیے کارآمد نہیں۔ قرآن میں بہت سے پیغمبروں کا ذکر ہے۔ اس کا مقصد اہلِ ایمان کو ان کی زندگی سے سبق دینا ہے۔ مثلاً سلیمان علیہ السلام ایک اسرائیلی پیغمبر ہیں، ان کو اللہ تعالیٰ نے یہ خصوصیت دی کہ جنات کو ان کے لیے مسخر کر دیا (الانبیاء، 82-81: 21)۔ یہ چیز بعد کو یہود کے لیے فتنہ بن گئی۔ انھوں نے یہ سمجھا کہ حضرت سلیمان جو کچھ کرتے تھے، جادو اور عملیات کے زور پر کرتے تھے۔ چنانچہ یہود نے جادو اور عملیات میں مہارت حاصل کرنا شروع کردی۔ انھوں نے خدا کے دین کو جادو اور عملیات کا دین بنا کر رکھ دیا (البقرۃ، 102: 2)۔ حضرت مسیح کا اصل کام دعوت تھا۔ دعوت کا تقاضا ہے کہ داعی یک طرفہ طور پر حسنِ اخلاق کا طریقہ اختیار کرے ۔ چنانچہ حضرت مسیح نے اپنے پیروؤں کو رافت اور رحمت اور اعراض کی زبردست تاکید کی۔ بعد کو حضرت مسیح کے پیرو کار رافت، رحمت اور اعراض کی دعوتی مصلحت کو سمجھ نہ سکے۔ انھوں نے اس کو اصل مطلوب سمجھ لیا اور اس میں مزید مبالغہ کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ اعراض دنیا برائے اخلاق و دعوت کو انھوں نے ترکِ دنیا بمعنی رہبانیت بنا دیا (الحدید، 57: 27)۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اگرچہ اپنی زندگی کا ابتدائی نصف سے زیادہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page