Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 148

By Maulana Wahiduddin Khan

حصہ دعوت پر زور دینے میں صرف کر دیا۔ اس زمانہ میں آپ نے بھی صبر اور اعراض اور ایک طرفہ حسن اخلاق کی تعلیم دی۔ مگر ہجرت کے بعد قریش کی جارحیت نے آپ کو دفاع پر مجبور کیا۔ اس وقت آپ کے اوپر قتال کی آیتیں اتاری گئیں۔ مدنی زندگی کا بیشتر حصہ جارحانہ کارروائیوں کا دفاع کرنے میں گزرا۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شدید اندیشہ تھا کہ آپ کی امت بھی اس معاملہ میں فتنہ میں مبتلا ہوگی۔ جو چیز مشرکین اور کافروں کی جارحیت کے خلاف بطورِ دفاع فرض کی گئی تھی، اس کو مسلمان خود اپنی جنگ کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیں گے۔ آپ نے حجۃ الوداع کے خطبے میں فرمایا: لاَ تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا، يَضْرِبَ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 4403)۔ یعنی میرے بعد تم لوگ کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ تم میں سے بعض، بعض کی گردن مارنے لگے۔ اس طرح کی کثیر حدیثیں ہیں جن میں مسلمانوں کو مطلق طور پر جنگ سے منع کیا گیا ہے۔ مگر خلیفہ سوم کے زمانہ ہی میں مسلمان اس فتنہ میں پڑ گئے۔ انھوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت ترین انتباہ کے باوجود آپس میں لڑنا شروع کر دیا اور کہا کہ یہ جہاد ہے۔ مگر یہ جہاد نہیں بلکہ بدعت تھی اور یہ بدعت آج تک مسلمانوں میں جاری ہے۔ 25 جولائی 1985 کہا جاتا ہے کہ شہنشاہ اکبر نے اپنے لڑکے کے شہزادہ سلیم کی شادی میں اس کو چارسو ہاتھیوں کا تحفہ دیا۔ یہ چارسو ہاتھی دو ہد (گجرات) کے گھنے جنگلوں سے حاصل کیے گئے تھے۔ مگر آج گجرات کے اس علاقہ میں نہ کہیں گھنے جنگل نظر آتے ہیں، اور نہ ہاتھی۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زمانہ کس طرح بدلتا رہتا ہے۔ ایک جگہ جہاں آج ”جنگل“ نظر آتا ہے وہاں کل ”میدان“ نظر آنے لگتا ہے۔ جہاں آج

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page