Urdu book · اوراقِ حکمت

پیش لفظ

Urdu book, p. 14

By Maulana Wahiduddin Khan

کے تاجر سے لینا تھا، مگر اس تاجر کے بارے میں انھیں یقین تھا کہ اس کو خدا سے مل جائے گا۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی بہت سی جماعتیں ہیں مگر تقریباً یہ سب ردِ عمل کی پیدا وار ہیں۔ مسلمانوں کی ایک جماعت اور دوسری جماعت میں کوئی حقیقی فرق نہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ جو لیڈراینٹی ہندو ٹون (anti-Hindu tone) میں بولتا ہے اس سے مسلمان خوش ہو جاتے ہیں اور جو پرو ہندو ٹون (pro-Hindu tone) میں بولتا ہے اس سے ناخوش۔ قوموں کا عام مزاج یہ ہے کہ وہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ (anti-establishment) آوازوں کو پسند کرتی ہیں اور پرو اسٹیبلشمنٹ (pro-establishment) آوازوں کو عوام کے اندر پسندیدگی حاصل نہیں ہوتی۔ ہندوستان میں اس نفسیات پر مزید اضافہ یہ ہوا کہ مختلف اسباب سے مسلمانوں کے دلوں میں ہندوؤں کے خلاف منفی سوچ پیدا ہو گئی۔ اس کی وجہ سے کوئی ایسی تحریک ان کے درمیان مقبول نہیں ہوتی جو ہندوؤں سے ایڈجسٹمنٹ (adjustment) کی باتیں کرتی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلی تقریباً نصف صدی کی پرشور مسلم سیاست کے باوجود مسلمانوں کے حصہ میں احتجاج کے سوا اور کچھ نہ آیا۔ 19 جنوری 1985 شیخ محمد سلیمان القائد (لیبیا) 23 اگست 1984 کو روانڈا کی راجدھانی کیگالی (Kigali) سے دہلی آئے تھے، اور یکم ستمبر 1984 کو واپس گئے۔ وہ اردو زبان بالکل نہیں جانتے۔ مگر عجیب بات ہے کہ انھوں نے میرے مشن کو جتنی گہرائی کے ساتھ سمجھا ہے، شاید کسی اور نے نہیں سمجھا۔ انھوں نے میری عربی کتابیں بار بار پڑھی ہیں۔ میرے ساتھ طرابلس میں تقریباً دو مہینہ رہے ہیں۔ اردو کے عربی ترجمے خود کرواکر پڑھے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page