Urdu book · اوراقِ حکمت

پیش لفظ

Urdu book, p. 15

By Maulana Wahiduddin Khan

دہلی میں انھوں نے مولانا حمید اللہ ندوی اندوری سے کہا۔ اگر آپ نے شیخ وحید الدین خاں کے مشن کو واقعتاً پوری طرح سمجھا ہے تو آپ میرے بعد دوسرے شخص ہوں گے۔ شیخ محمد سلیمان القائد افریقہ میں زبردست تبلیغی کام کر رہے ہیں۔ مگر وہ اپنے کام کو ہمارے کام ہی کی شاخ سمجھتے ہیں۔ انھوں نے کہا: دہلی مرکز تفجیر الثورة الفکرية ہوگا، اور یہاں سے سارے عالم میں اسلامی دعوت پھیلے گی۔ کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس نیک تمنا کو واقعہ بنادے۔ 21 جنوری 1985 پروفیسر اقبال عظیم بینائی سے محروم ادیب ، شاعر تھے۔ ان کی پیدائش 1913 میں ہوئی (اور وفات 2000 میں ہوئی)۔ ان کی نعتیہ نظم کا ایک شعر یہ ہے: بصارت کھو گئی لیکن بصیرت تو سلامت ہے مدینہ ہم نے دیکھا ہے مگر نادیدہ نادیدہ اس شعر میں عجیب درد اور عجیب گہرائی ہے۔ مگر ایسا شعر صرف ایک ایسا شخص ہی کہہ سکتا تھا جس نے اپنی دونوں آنکھیں کھودی ہوں۔ جس شخص کی دونوں آنکھیں روشن ہوں، اس کی زبان سے ایسا شعر نکل نہیں سکتا۔ اس دنیا کا عجیب نظام ہے۔ یہاں کھونے والا بھی پاتا ہے۔ بلکہ اکثر کھونے والا شخص اس سے زیادہ پا لیتا ہے، جتنا کوئی بظاہر پانے والا شخص پائے ہوئے ہو۔ 22 جنوری 1985 پاکستان کے ایک معروف عالم دین دہلی آئے اور ہمارے یہاں ٹھہرے ۔ ایک ملاقات میں میں نے ان سے پوچھا کہ ”آپ کی دریافت کیا ہے۔ انھوں نے کچھ دیر سوچنے کے بعد کہا: قرآن حکیم میں امت مسلمہ سے خطاب کا کلائمکس سورہ حدید ہے۔ سورہ حدید کی پہلی چھ آیات میں ذات باری تعالیٰ کی صفات کا اعلیٰ ترین سطح پر بیان نقطۂ عروج پر ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page