29 جولائی 1985
Urdu book, p. 151
By Maulana Wahiduddin Khan
چھوٹی چھوٹی چیزوں کا نقصان برداشت نہ کرے، وہ اپنی زندگی میں کسی بڑی چیز کو حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔ ایک عربی میگزین میں یہ عبارت نظر سے گزری: دخل اعرابی علی بخیل فوجده يأكل خبزاً وعسلاً فأخفى الخبز فى حجره ولم يدعه لتناول الطعام معه۔ فما كان من الاعرابي الا ان تقدم الى اناء العسل وأخذ يأكل بلا خبز۔ فقال له البخيل: ان العسل وحده يحرق القلب فأجابه الأعرابي: نعم، ولكن قلبک لا قلبی۔ یعنی، ایک دیہاتی آدمی ایک بخیل کے پاس آیا۔ اس نے دیکھا کہ بخیل روٹی اور شہد کھارہا ہے۔ بخیل نے روٹی کو اپنی گود میں چھپا لیا اور دیہاتی کے لیے نہیں چھوڑا کہ وہ اس کے ساتھ کھا سکے۔ دیہاتی نے یہ کیا کہ وہ شہد کے برتن کی طرف بڑھا اور اس کو روٹی کے بغیر کھانے لگا۔ یہ دیکھ کر بخیل نے اس سے کہا کہ خالی شہد کھانا دل کو جلاتا ہے۔ دیہاتی نے جواب دیا، ہاں وہ جلاتا ہے، مگر وہ تمھارے دل کو جلاتا ہے، نہ کہ میرے دل کو۔ ممکن ہے کہ یہ واقعہ نہ ہو بلکہ محض لطیفہ ہو، قدیم زمانہ تمثیلات کا زمانہ تھا۔ لوگ اپنی باتوں کو کہانی کے روپ میں بیان کیا کرتے تھے۔ گمان غالب یہ ہے کہ کسی شخص نے ”بخیل“ کے کردار کو نمایاں کرنے کے لیے یہ قصہ گھڑا اور اس کو لوگوں کے درمیان پھیلا دیا۔ اخلاقی درس کی حد تک یہ بناوٹی قصے درست تھے۔ مگر اس کے بعد اپنے بڑوں کی بڑائی اور بزرگی ظاہر کرنے کے لیے طلسماتی قصے کہانیاں گھڑے جانے لگے۔ یہاں آکر یہ طریقہ سراسر غلط ہوگیا۔ کیوں کہ ان جھوٹے قصوں نے یہ تصور دیا کہ ”بزرگ ایسے ہوتے ہیں“۔ حالاں کہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی انسان ایسا ہوتا ہی نہیں، اور نہ کوئی بزرگ کسی قسم کے بزرگی اور کرامات کے ساتھ پیدا ہوتا ہے۔ مگر فرضی تصویر لوگوں کے لیے حقیقی تصویر بن گئی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader