اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 153
By Maulana Wahiduddin Khan
پاس ”عمل“ کا سرمایہ نہیں، مگر غالباً میرے پاس ”اعتراف“ کا سرمایہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ توفیق دی ہے کہ میں اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کا آخری حد تک اعتراف کروں۔ یہی میرا سرمایہ ہے اس کے سوا میرے پاس اور کوئی سرمایہ نہیں۔ 1 اگست 1985 کسی شخص کا قول ہے کہ غم پیچھے کی طرف دیکھتا ہے، پریشانی ادھر ادھر دیکھتی ہے، اور عقیدہ اوپر کی طرف دیکھتا ہے: Sorrow looks back, worry looks around, faith looks up. 2 اگست 1985 انسان کی گمراہی ہر دور میں ایک ہی رہی ہے ــــ جو چیز خدا کی قدرت سے ہو رہی ہے اس کو غیر خدا کی طرف منسوب کرنا۔ جب بھی انسان ایسا کرتا ہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جس واقعہ کو دیکھ کر انسان پر خدا کی عظمت طاری ہونی چاہیے تھی، اس سے وہ غیر خدا کی عظمت میں گم ہو جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں انسان سورج کو پوجتا تھا۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ انسان نے سورج سے روشنی اور حرارت نکلتے ہوئے دیکھا۔ اس نے سمجھا کہ یہ خود سورج ہے جو اپنی طاقت سے روشنی اور حرارت نکال رہا ہے۔ آدمی اگر روشنی اور حرارت کو خدا کی قدرت سے نکلنے والی چیز سمجھتا تو وہ خدا کے آگے جھک جاتا۔ مگر جب اس نے روشنی اور حرارت کو خود سورج سے نکلنے والی چیز سمجھا تو وہ سورج کے آگے جھک گیا۔ اسی طرح حضرت مسیح علیہ السلام نے معجزے دکھائے۔ یہ معجزے خدا کی قدرت سے تھے مگر بعد کے مسیحیوں نے اس کو خود حضرت مسیح کا اپنا کرشمہ سمجھ لیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے جذبات سب سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader