Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 154

By Maulana Wahiduddin Khan

زیادہ حضرت مسیح سے وابستہ ہو گئے۔ انھوں نے حضرت مسیح کو خدا سمجھ کر ان کی پرستش شروع کر دی۔ یہی معاملہ ایک اور شکل میں پیغمبر اسلام کے ساتھ پیش آیا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ جو فتوحات ہوئیں، وہ پوری انسانی تاریخ کا سب سے زیادہ انوکھا واقعہ ہے۔ یہ واقعہ بھی یقینی طور پر خدائی قدرت سے پیش آیا، جیسا کہ قرآن میں بیان ہوا ہے (التوبہ، 9:25-26)۔ مگر بعد کے مسلمانوں نے اس کو خود اپنے پیغمبر کا کرشمہ سمجھ لیا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بعد کے زمانہ کے مسلمانوں میں خدا کی بڑائی کا احساس گھٹ گیا اور اپنے پیغمبر کی بڑائی کا احساس ہر چیز سے زیادہ چھا گیا۔ پچھلے ہزار سال کے اندر مسلمانوں نے اپنے پیغمبر کی عظمت پر بے شمار کتا ہیں نظم ونثر میں لکھی ہیں، مگر خدا کی عظمت پر ایک ہزار سال کے اندر وہ ایک بھی قابل ذکر کتاب تیار نہ کر سکے۔ 13 اگست 1985 فرینچ رائیٹر اور فلاسفر ژاں پال سارترے(1905 Jean-Paul Sartre) میں پیدا ہوا اور 1980 میں اس کا انتقال ہوا۔ اس کا ایک قول ہے کہ تشدد صرف ان لوگوں کے لیے موزوں ہے، جو کھونے کے لیے کچھ نہ رکھتے ہوں: Violence suits those who have nothing to lose. یہ ایک نہایت حکیمانہ بات ہے۔ جب بھی ایک شخص تشدد کرتا ہے تو لازماً اس کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ حتیٰ کہ اس وقت بھی جب کہ اس نے اپنے حریف کے مقابلہ میں لڑائی جیت لی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس شخص پر تشدد کیا گیا ہے، وہ کوئی پتھر نہیں ہے، بلکہ انسان ہے، اور انسان ہمیشہ ردِّ عمل (reaction) ظاہر کرتا ہے۔ زیرِ تشدد آدمی تشدد کے جواب میں وہ سب کچھ کرتا ہے، جو اس کے بس میں ہو۔ اگر وہ طاقت ور ہے تو وہ اپنے حریف کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page