Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 155

By Maulana Wahiduddin Khan

مقابلہ میں براہِ راست وار کرتا ہے، اور اگر وہ طاقت ور نہیں ہے تب بھی کمینہ پن کا راستہ ہر ایک کے لیے کھلا ہوا ہے۔ طاقت ور آدمی جو کچھ کھلے طور پر کر سکتا ہے وہی کمزور آدمی کر سکتا ہے، اس فرق کے ساتھ کہ وہ جو کچھ کرتا ہے چھپے طور پر کرتا ہے۔ ایسی حالت میں تشدد صرف اس شخص کے لیے مفید ہے، جس کے پاس پھوس کا چھپر بھی نہ ہو، جس میں اس کا حریف رات کے وقت آ کر آگ لگا سکے۔ اس کی جیب میں چند روپے بھی نہ ہوں، جس کو کوئی اس سے چھین سکے۔ زندگی کا اصل راز یہ ہے کہ آدمی فریقِ ثانی سے ٹکراؤ نہ کرتے ہوئے اپنی تعمیر کرے۔ حتیٰ کہ فریقِ ثانی شرارت کرے تب بھی وہ اس کو نظر انداز کرے۔ تشدد کے نقصانات سے وہی شخص بچ سکتا ہے، جو اعراض کی حکمت کو جانتا ہو۔ 15 اگست 1985 (George Macaulay Trevelyan, 1876-1962) جی ایم ٹریولیاں برٹش ہسٹورین ہے۔ اس کا ایک قول ہے کہ تعلیم نے ایسے بہت سے لوگ پیدا کر دیے ہیں جو پڑھ سکیں۔ مگر تعلیم ایسے لوگ پیدا نہ کر سکی، جو یہ فرق کر سکیں کہ کیا چیز پڑھنے کے قابل ہے، اور کیا چیز پڑھنے کے قابل نہیں: Education has produced a vast population able to read, but unable to distinguish what is worth reading. تعلیم ایک وسیلہ ہے، جو آدمی کو پڑھنے کے قابل بناتا ہے۔ مگر آدمی کیا چیز پڑھے، اس کا فیصلہ وہ خود کرتا ہے۔ اگر اس کے مزاج میں سنجیدگی ہے تو وہ سنجیدہ لٹریچر پڑھے گا اور اگر اس کے مزاج میں سطحیت ہے تو وہ سطحی چیزوں کو پڑھ کر اپنے ذوق کی تسکین حاصل کرے گا۔ انسان کو تعلیم یافتہ بنانا اصل کام نہیں، انسان کو انسان بنانا اصل کام ہے۔ تعلیم یقیناً ایک ذریعہ ہے، مگر تعلیم بجائے خود مقصد نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page