Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 158

By Maulana Wahiduddin Khan

آدمی دوسروں کے بیٹے کے بارے میں حسد کے ذہن سے سوچتا ہے، اور خود اپنے بیٹے کے بارے میں خیر خواہی کے ذہن سے۔ ایک شخص کی زندگی برباد ہوگئی ہو تو دوسروں کے بارے میں وہ چاہتا ہے کہ جس طرح میں برباد ہوا ہوں وہ بھی برباد ہوجائیں۔ مگر خود اپنی اولاد کے بارے میں اس کا ذہن اس کے برعکس ہوتا ہے۔ اپنی اولاد کے بارے میں وہ سوچتا ہے ۔ اگر چہ میری زندگی برباد ہوگئی مگر میری اولاد کی زندگی برباد نہ ہونے پائے۔ 12 اگست 1985 بے آمیز حق اس دنیا میں سب سے زیادہ اجنبی چیز ہے۔ ہر دوسری چیز کے گرد انسانوں کی بھیڑ جمع ہوسکتی ہے۔ مگر بے آمیز حق کے گرد چند انسانوں کو اکٹھا کرنا بھی انتہائی حد تک دشوار ہے۔ پیغمبروں کی تاریخ اس کا زندہ ثبوت ہے۔ پیغمبر آخرالزماں کو چھوڑ کر تمام معلوم پیغمبروں کی تاریخ بتاتی ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو صرف ایسے ہی کچھ افراد مل سکے جوخونی رشتہ کی بنا پر ان سے نفسیاتی تعلق رکھتے تھے۔ خونی رشتہ سے باہر کوئی شخص انھیں نہیں ملا جو حقیقی معنوں میں ان کا ساتھی بن سکے۔ حضرت ابراہیم کا ساتھ دینے والے صرف ان کے بھتیجے حضرت لوط اور ان کے بیٹے حضرت اسماعیل تھے۔ حضرت لوط کا ساتھ آخر وقت میں صرف ان کی بیٹیوں نے دیا۔ حضرت موسی کے سچے ساتھی صرف حضرت ہارون ثابت ہوئے جو ان کے بھائی تھے۔ حضرت مسیح کو ان کی ماں کے سوا کوئی دوسرا نہ مل سکا۔ دوسرے لوگ جو ملے تھے وہ سب آخر وقت میں انھیں چھوڑ کر بھاگ گئے، وغیرہ۔ پیغمبروں کی تاریخ میں اس اعتبار سے صرف پیغمبر آخر الزماں کا استثنا (exception) ہے۔ ان کو غیر رشتہ داروں میں بھی ایسے ساتھی ملے، جو واقعی ساتھی تھے۔ جو ساتھ چھوڑنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page