اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 159
By Maulana Wahiduddin Khan
کے تمام ممکن واقعات پیش آنے کے باوجود آخر وقت تک ان کے ساتھی بنے رہے۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ براہ راست خدا کے تصرف کے تحت ہوا۔ ہمارے سیرت نگار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معجزہ بیان کرتے ہیں کہ درخت اور پتھر ان کے ساتھ چلنے لگے۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ کا سب سے بڑا معجزہ یہ ہے کہ انسان آپ کے ساتھ چلنے لگے تھے، اور یہ معجزہ براہ راست خدائی نصرت کے تحت پیش آیا جیسا کہ قرآن میں آیا ہے: وَلَکِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَیکُمُ الإِیمَانَ وَزَیَّنَهُ فِي قُلُوبِکُم وَکَرَّهَ إِلَیکُمُ الكُفْرَ وَالفُسُوقَ وَالعِصْیَانَ (7 : 49)۔ یعنی اور لیکن اللہ نے تم کو ایمان کی محبت دی اور اس کو تمہارے دلوں میں مرغوب بنا دیا، اور کفر اور فسق اور نافرمانی سے تم کو متنفر کر دیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پیغمبرانہ سچائی ہمیشہ مجرد سچائی ہوتی ہے۔ تاریخ سے کٹ کر اور ماحول سے اٹھ کر ہی آدمی پیغمبرانہ سچائی کو پہچان سکتا ہے، اور بدقسمتی سے ایسے لوگ معلوم انسانی تاریخ کے مطابق شاید پیدا ہی نہیں ہوئے۔ 13 اگست 1985 حدیث میں بتایا گیا ہے کہ انسان کے جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ اگر وہ درست ہو تو پورا جسم درست رہتا ہے۔ اور اگر اس میں بگاڑ آ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے۔ اور یہ قلب ہے (أَلَا وَإِنَّ فِي الجَسَدِ مُضْغَةً : إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الجَسَدُ كُلُّهُ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ القَلْبُ )۔ صحیح البخاری، حدیث نمبر 52۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کی اصلاح کا دارومدار ”قلب“ کی اصلاح پر ہے۔ یہاں قلب کا لفظ عقل کے معنی میں ہے۔ دوسرے لفظوں میں ہر قسم کی تبدیلیوں کا راز اندرونی تبدیلی میں ہے، یعنی سوچ وفکر کی تبدیلی، نہ کہ بیرونی تبدیلی۔ اس حدیث کی روشنی میں موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام بڑی بڑی تحریکیں غیر فطری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader