Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 162

By Maulana Wahiduddin Khan

بظاہر یہ بڑے کمال کی بات معلوم ہوتی ہے۔ لیکن جب اس اعتبار سے دیکھا جائے کہ صحابہ کرام قرآن کے ان 73 علوم سے واقف نہ تھے تو یہ مہارتِ اسلام کے بجائے محض ایک فن نظر آنے لگتی ہے۔ کیوں کہ اسلام اگر ان علوم کا نام ہوتا تو صحابہ کرام ضرور ان علوم کے ماہر ہوتے۔ 16 اگست 1985 امریکن رائٹر رالف والڈو ایمرسن (1803-1882 Ralph Waldo Emerson) نے لکھا ہے کہ تم ایک اچھا چو ہے دان بناؤ اور دنیا خود ہی چل کر تمھارے دروازے پر آ جائے گی: Build a better mousetrap and the world would beat a path to your door. لوگوں کے نزدیک سب سے زیادہ اہم چیز معیار (quality) ہے۔ ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ جو چیز وہ بازار سے خریدے وہ اعلیٰ معیار کی ہو۔ استعمال کے وقت ہر اعتبار سے وہ بہترین ثابت ہو۔ لوگوں کا یہ مزاج ہی کسی آدمی کے لیے موجودہ دنیا میں ترقی کا سب سے بڑا زینہ ہے۔ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کو دنیا میں عزت اور ترقی کا مقام حاصل ہو اس کو صرف ایک کام کرنا چاہیے۔ وہ جو کام بھی کرے اعلیٰ معیار پر کرے اس کے بعد دنیا خود اسے اس کا مطلوبہ مقام دینے پر مجبور ہو جائے گی۔ دہلی میں اس اصول کی ایک زندہ مثال خلیق احمد ٹونکی (پیدائش (1932) ہیں۔ انھوں نے کتابت کے کام میں ایک طویل عمر صرف کر دی۔ یہاں تک کہ وہ دہلی کے سب سے اچھے کاتب بن گئے۔ اب یہ حال ہے کہ انھیں کام تلاش کرنے کی ضرورت نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page