اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 161
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کو خطرہ ہے۔ ایوب اور بھٹو کا اقتدار ختم ہو گیا مگر اسلام کا خطرہ ختم نہیں ہوا۔ مولانا علی میاں اور ان کے ماننے والوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے شاہ بانو کیس کے فیصلے سے اسلام کو خطرہ ہے۔ پارلیمنٹ نے مسلمانوں کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے آزاد کر دیا۔ مگر اسلام بدستور خطرہ میں گھرا رہا۔ یہ مسلمانان ہند کی تقریباً چار سو سال کی تاریخ کا خلاصہ ہے۔ ہر وہ طاقت جس کو مسلمانوں نے اسلام کا دشمن قرار دیا وہ راستے سے ہٹائی جاتی رہی۔ مگر اسلام اور مسلمان بدستور خطرات میں گھیرے رہے ۔ ہندوستان میں بھی، پاکستان میں بھی اور بنگلہ دیش میں بھی۔ یہ طویل تجربہ یہ بتانے کے لیے کافی تھا کہ مسلم قائدین کی نشان دہی غلط تھی۔ مگر مسلمانوں کی بے شعوری کا یہ حال ہے کہ ہر اگلا قائد پچھلے قائدین کا صرف مقلد بنا ہوا ہے۔ ماضی کی نادانیوں نے مسلمانوں کو کوئی سبق نہیں دیا۔ 15 اگست 1985 کہا جاتا ہے کہ خلیفہ ہارون رشید نے ایک بار امام شافعی سے پوچھا۔ خدا کی کتاب کے بارے میں آپ کا علم کیا ہے (مَا عَلْمُكَ بِكِتَابِ اللهِ)۔ امام شافعی نے جواب دیا کہ علوم قرآن کی بہت سی قسمیں ہیں۔ آپ کی مراد کس علم سے ہے۔ کیا امثال و اخبار سے، محکمات سے، متشابہات سے، تقدیم و تاخیر سے، ناسخ و منسوخ سے، باعتبار مکان کی ومدنی سے یا باعتبار زمان لیلی و نہاری ( رات یا دن ) سے، صیفی و شتائی ( گرمی یا سردی) سے، باعتبار قیام اور سفر و حضر سے، اس کے اعراب اور حروف و الفاظ سے۔ اس طرح امام شافعی نے قرآن کے 73 علوم گنا دیے ۔ ہارون رشید نے یہ سن کر کہا کہ آپ نے قرآن کے بہت کافی علوم کو جمع کر لیا ہے (لَقَدْ أُوعِیتَ مِنَ القُرْآنِ عِلْمًا عَظِيمًا)۔ مرآة الجنان وعبرة اليقظان لليافعي، جلد 2، صفحہ 17

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader