Urdu book · اوراقِ حکمت

21 اگست 1985

Urdu book, p. 166

By Maulana Wahiduddin Khan

حق کے ساتھ کھڑا ہو تو انسان (یا اس دلیل حق) کی حیثیت مخاطبین کے لیے خدا کے نمائندہ کی حیثیت ہو جاتی ہے ۔ اس وقت جو شخص جھک گیا، وہ خدا کے سامنے جھکا۔ اس وقت جو شخص نہیں جھکا، اس نے خدا کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔ 22 اگست 1985 عربی کا ایک مقولہ ہے : اِذَا تَکَلَّمْتُ بِالْکَلِمَةِ مَلَکْتَنِیْ وَإِذَا لَمْ أَتَکَلَّمْ بِهَا مَلَکْتُهَا (الدر الفرید و بیت القصید للمستعصمی، جلد 6، صفحہ 65) ۔ یعنی، جب میں نے ایک بات کہہ دی تو وہ میرے اوپر اختیار حاصل کرلیتی ہے اور اگر میں بات نہ کہوں تو میں اس کے اوپر اختیار رکھتا ہوں۔ شیخ سعدی نے یہی بات کسی قدر مختلف انداز میں اس طرح کہی ہے : تا مرد سخن نہ گفتہ باشد عیب وہنرش نہفتہ باشد آدمی جب تک بات نہ کہے تو اس کا عیب وہنر چھپا رہتا ہے اسی بات کو انگریزی میں کسی نے اس طرح کہا ہے کہ ہم اپنے نہ کہے ہوئے الفاظ کے آقا ہیں ، اور ہم ان الفاظ کے غلام ہیں جو ہم اپنی زبان سے کہہ دیں : We are masters of our unsaid words. And slaves to those we let slip out. مختلف زبانوں میں اس طرح کے مشابہ اقوال اس بات کا ایک مظاہرہ ہیں کہ تمام انسان حقیقتاً ایک ڈھنگ پر سوچتے ہیں۔ تمام حقیقتیں آفاقی حقیقتیں ہیں۔ فطرت کی سطح پر سب کا انداز فکر ایک ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ کوئی شخص اس کو ایک زبان میں بیان کرتا ہے اور کوئی شخص دوسری زبان میں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی ایک دعا عربی ماہ نامہ العربی میں پڑھی۔ وہ دعا یہ ہے :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page