اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 167
By Maulana Wahiduddin Khan
اَللَّهُمَّ إِنِّي أَطَعْتُكَ فِي أَحَبِّ الْأَشْيَاءِ إِلَيْكَ، وَهُوَ التَّوْحِيدُ، وَلَمْ أَعْصِكَ فِي أَبْغَضِ الْأَشْيَاءِ إِلَيْكَ وَهُوَ الْكُفْرُ، فَأَغْفِرْ لِي مَا بَيْنَهُمَا (الأخبار الموفقيات للزبیر بن بكار، صفحه 198)۔ یعنی خدایا، میں نے تیری سب سے زیادہ محبوب چیز میں تیری اطاعت کی ہے، اور وہ توحید ہے۔ اور تیری سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز میں تیری نافرمانی نہیں کی اور وہ کفر ہے۔ پس ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے اس میں تو مجھ کو بخش دے۔ 24 اگست 1985 ”اقبال کی نظری و عملی شعریت“ ایک مختصر کتاب ہے جس کے مصنف پروفیسر مسعود حسین خاں (پیدائش 1919) ہیں۔ انھوں نے یہ کتاب سری نگر (کشمیر) میں اپنے قیام کے دوران مرتب کی ہے، اور مکتبہ جامعہ نئی دہلی نے اس کو شائع کیا ہے۔ کتاب کے آغاز میں ایک دیباچہ ”حرفِ چند“ کے عنوان سے ہے۔ اس میں پروفیسر موصوف لکھتے ہیں: ”ڈل جھیل کے کنارے نسیم باغ کے چناروں کے سایہ تلے مجھے خدا نہیں تو کم از کم اقبال کو بے نقاب دیکھنے کا موقع ملا۔“ یہ بات جو ایک ادیب نے بے تکلف لکھ دی، یہی ہمارے علما تک کا حال ہے۔ قدرت کی نشانیاں چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں، جو اس لیے ہیں تا کہ ان کو دیکھ کر خدا کے بندے خدا کو پائیں۔ مگر نشانیوں کے ہجوم میں بھی کسی کو خدا دکھائی نہیں دیتا۔ البتہ ”اقبال“ کو ہر شخص دیکھ لیتا ہے۔ خدا کی ذات کسی کو نظر نہیں آتی۔ مگر انسانی شخصیتیں لوگوں کو خوب نظر آتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج ہر مجلس اور ہر اجتماع میں انسانی شخصیتوں کے چرچے ہیں۔ مگر اُس مجلس اور اس اجتماع سے خدا کی زمین خالی ہے، جہاں واقعی معنوں میں خدا کی یاد کی جائے۔ جہاں لوگ اسی طرح خدا کے کمالات سے سرشار ہو کر خدا کا تذکرہ کریں، جس طرح وہ انسانوں کے کمالات سے سرشار ہو کر ان کا تذکرہ کرتے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader