Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 172

By Maulana Wahiduddin Khan

اعلان کر دے گا کہ میں قیادت کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ میری فہم و بصیرت اس سے کم ہے کہ میں قوم کی قیادت کر سکوں۔ اس لیے میں قیادت کے کام سے مستعفی ہو رہا ہوں۔ کوئی شخص غلطی پر غلطی کرے اور پھر بھی قیادت کے میدان سے واپس نہ ہو تو یہ واضح طور پر اس بات کا ثبوت ہے کہ اس کے اوپر اس کا نفس چھایا ہوا ہے۔ ساٹھ اور عزت نفس کا سوال اس کو علی الاعلان اپنی قیادت نااہلی کا اعتراف کرنے سے روکے ہوئے ہے اس سے زیادہ بکا ہوا انسان اور کون ہو سکتا ہے ۔ پر جوش الفاظ اور حقیقت واقعہ میں فرق نہ کر سکے ۔ 3 ستمبر 1985 غزوۂ طائف ( 8 ھ ) کی روایات میں سے ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے : ثُمَّ سَلَكَ فِي طَرِيقٍ يُقَالُ لَهَا الضَّيِّقَةُ، فَلَمَّا تَوَجَّهَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَ عَنْ اسْمِهَا، فَقَالَ: مَا اسْمُ هَذِهِ الطَّرِيقِ؟ فَقِيلَ لَهُ الضَّيِّقَةُ، فَقَالَ: بَلْ هِيَ الْيُسْرَى (سیرت ابن ہشام ، جلد 2 ، صفحہ 482 ) یعنی ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک راستے پر چلے جس کو "تنگ" کہا جاتا تھا۔ جب آپ اس راستہ پر آئے تو آپ نے اس کے نام کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے کہا کہ اس راستہ کا نام کیا ہے۔ کہا گیا کہ "تنگ" آپ نے فرمایا نہیں، بلکہ یہ "آسان" ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مومن کا مزاج مثبت مزاج ہونا چاہیے۔ مومن تاریکی میں روشنی کو دیکھتا ہے، وہ ڈس ایڈوانٹیج میں ایڈوانٹیج کو دریافت کرتا ہے۔ وہ مشکل کو آسانی کے روپ میں ڈھال دیتا ہے۔ جس چیز کو عام لوگ الضّيّقة کہتے ہیں وہ مومن کے ذہن میں آ کر الْيُسْرَى بن جاتی ہے۔ غالباً یہی وہ چیز ہے، جس کو ٹائن بی نے برتر حل ( superior solution ) کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page