اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 171
By Maulana Wahiduddin Khan
کا قول ہے کہ بے وقوف کی جلد بازی دنیا میں سب سے زیادہ سست رفتار چیز ہے: آج کل کے لوگوں کے حالات کو دیکھیے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی نہیں جو یہ سوچ کر لکھے یا بولے کہ رضائے خدا وندی کیا ہے۔ ہر ایک بس یہ سوچ کر لکھتا ہے اور بولتا ہے کہ رضائے قوم کیا ہے، رضائے مفاد کیا ہے، رضائے مصلحت کیا ہے، وغیرہ۔ 31 اگست 1985 ایک مفکر کا قول نظر سے گزرا کہ ”جہاں تلوار چلتی ہے وہاں سے ہل غائب ہو جاتے ہیں“۔ یہ نہایت درست بات ہے۔ اور پوری تاریخ اس حقیقت کی تصدیق کرتی ہے۔ جنگ اور تعمیر دونوں کام ساتھ ساتھ نہیں ہو سکتا۔ سچے قائد کی پہچان یہ ہے کہ وہ جنگ اور ٹکراؤ سے آخری حد تک اعراض کرے ۔ تاکہ اس کا ”لوہا‘‘ تلوار بننے میں ضائع نہ ہو، بلکہ وہ ہل بنانے کے کام میں آسکے۔ ایک صاحب ایک مسلم قائد کی عظمت کے بہت زیادہ قائل تھے۔ انھوں نے قائد موصوف کے بارے میں تقریر کرتے ہوئے پر جوش طور پر کہا: وہ سو بار غلطی کر سکتے تھے مگر وہ ایک بار بھی کسی کے ہاتھ بک نہیں سکتے تھے۔ میں نے کہا کہ ”سو بار‘‘ غلطی کرنا خود بھی بکنے ہی کی ایک صورت ہے۔ یہ خود اپنے ہاتھ بکنا ہے، یہ اپنے نفس کے ہاتھ فروخت ہونا ہے۔ جب بھی آدمی کوئی غلط بات کہتا ہے یا کوئی غلط اقدام کرتا ہے تو بہت جلد مختلف طریقوں سے اس کی غلطی اس پر واضح ہوجاتی ہے۔ اگر آدمی اپنے نفس کے ہاتھ بکا ہوا نہ ہو تو وہ اپنی غلطی کا علی الاعلان اعتراف کرے گا۔ حتیٰ کہ اگر وہ قائد ہوتے ہوئے بار بار غلطی کیے چلا جارہا ہے تو وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader