اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 176
By Maulana Wahiduddin Khan
قرآن کا مطلوب انسان وہ ہے جو غیب پر ایمان لائے۔ اس سلسلے میں قرآن کے الفاظ یہ ہیں: الَّذِيْنَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ (2:3) ۔ یعنی وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ غیب پر ایمان لانا کیا ہے۔ یہ دوسرے لفظوں میں نامعلوم کو معلوم بنانا ہے۔ یعنی وہی چیز جس کو موجودہ زمانہ میں دریافت (discovery) کہا جاتا ہے۔ دنیوی ترقی کے رازوں کو خدا نے زمین و آسمان کے اندر چھپا دیا ہے۔ انھیں رازوں کو قوانین فطرت (laws of nature) کہا جاتا ہے۔ سائنس میں انھیں رازوں (یا قوانین فطرت) کو دریافت کیا جاتا ہے۔ جو قوم ان رازوں کو دریافت کرے وہ دوسروں سے آگے بڑھ جاتی ہے۔ جب کہ موجودہ زمانہ میں ہم مغربی اقوام کو یا ایشیا میں جاپان کی صورت میں دیکھ رہے ہیں۔ ترقی یافتہ قوموں (developed countries) کو تمام ترقیاں ان کی انھیں دریافتوں کی بنیاد پر حاصل ہوئی ہیں۔ اسی طرح عالم آخرت کو اللہ تعالیٰ نے انسان کی نظروں سے پوشیدہ کر دیا ہے۔ اب انسان کو اسے دریافت کرنا ہے۔ جو چیز غیب میں ہے اس کو شہود میں لانا ہے۔ اسی دریافت یا اکتشاف کا نام ایمان ہے۔ جو شخص اس ایمان میں جتنا زیادہ آگے ہوگا وہ آخرت میں اتنا ہی زیادہ ترقی اور کامیابی حاصل کرے گا۔ 1985ء 12 ستمبر ایک مسنون دعا ان الفاظ میں آئی ہے: مَنْ أَكَلَ طَعَامًا فَقَالَ: الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَطْعَمَنِي هَذَا وَرَزَقَنِيهِ مِنْ غَيْرِ حَوْلٍ مِنِّي وَلَا قُوَّةٍ، غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ (جامع الترمذی، حدیث نمبر 3458)۔ یعنی، جو شخص کوئی چیز کھائے اور کہے کہ شکر اور تعریف اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے یہ کھلایا اور میری کسی کوشش یا طاقت کے بغیر مجھ کو روزی عطا کی تو اس کے تمام پچھلے گناہ معاف کر دئے جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader