Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 177

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ دعا محض کھانے والے کے الفاظ کو نہیں بتاتی بلکہ دراصل اس احساس کو بتاتی ہے جس کے تحت ایک مومن خدا کے رزق کو کھاتا ہے۔ وہ چیز جس کو "کھانا" کہا جاتا ہے وہ ایک عظیم خدائی تخلیق ہے۔ وہ براہِ راست خدا کی قدرت سے وجود میں آتا ہے۔ جو شخص اس حقیقت کو پالے اس کا احساس انھیں الفاظ میں ڈھل جائے گا جو مذکورہ حدیث میں بیان ہوئے ہیں۔ اور جس کا احساس ان الفاظ میں ڈھل جائے وہ یقیناً اتنا بڑا عمل کرتا ہے کہ عجب نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام پچھلے گناہوں کو معاف کر دے۔ 13 ستمبر 1985 میں نے اپنے تجربے میں پایا ہے کہ بیشتر لوگ مایوسی کا شکار رہتے ہیں۔ وہ مایوسی کے احساس میں جیتے ہیں اور مایوسی میں مرجاتے ہیں۔ اس المیہ کا بنیادی سبب کیا ہے۔ وہ سبب یہی ہے کہ بیشتر لوگ اپنی زندگی کے لیے صحیح نقطۂ آغاز نہیں پاتے، اور جب آپ صحیح نقطۂ آغاز کو نہ پائیں تو آپ کی تمام سرگرمیاں آپ کے مطلوب کے اعتبار سے بے نتیجہ ہو کر رہ جائیں گی۔ اس دنیا میں قانونِ فطرت کے مطابق، کسی انسان کے لیے جو چیز قابلِ عمل ہے، وہ صرف یہ ہے کہ وہ ممکن اور ناممکن کے درمیان فرق کرے، اور پھر اپنا منصوبہ بنائے، یعنی آئیڈیل کو چھوڑ کر پریکٹیکل وزڈم کو اختیار کرنا۔ آدمی کے لیے یہی درست نقطۂ آغاز ہے۔ 14 ستمبر 1985 اپنے بس میں صرف برداشت ہے۔ اس کے سوا جو کچھ ہے صرف دوسروں کے بس میں ہے۔ ایسی حالت میں آدمی کے لیے ایک ہی ممکن طریقہ کار ہے۔ وہ اپنے بس والے مقام سے آغاز کرے۔ اگر اس نے وہاں سے آغاز کرنا چاہا جو دوسرے کے بس میں ہے تو وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ اس نے حقیقتاً آغاز ہی نہیں کیا، اور جو شخص آغاز نہ کرے، وہ اختتام کو کس طرح پہنچ سکتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page