Urdu book · اوراقِ حکمت

پیش لفظ

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

کے مطابق، حاشاک غیر اللہ کو جلانا اور باطل کو غارت کرنا خدا کا کام ہے، نہ کہ انسان کا کام۔ اس قسم کے اشعار سے صرف جھوٹا فخر پیدا ہو سکتا ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں کوئی کارآمدہن۔ مومن کا اصل کام یہ ہے کہ وہ دنیا والوں کا خیر خواہ (well-wisher) ہو۔ لوگوں کے لیے اس کے دل میں محبت کے چشمے جاری ہو جائیں۔ وہ لوگوں کو آخرت کی دعوت دینے کا حریص بنے، نہ کہ انھیں شعلوں کی نذر کرنے کا حریص۔ اہل ایمان کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ حق کا اعلان کرنے والے بنیں۔ اس اعلان کا اصل جذبہ خیر خواہی ہونا چاہیے، جس کو قرآن میں نصح کہا گیا ہے (الاعراف، 7:62)۔ یہ داعیانہ جذبہ ہی صحیح ایمانی جذبہ ہے۔ اس ناصحانہ دعوت کے نتیجے میں یا تو ایسا ہوتا ہے کہ لوگ حق کے راستے کو قبول کر لیتے ہیں یا وہ اس کا انکار کر کے سزا کے مستحق بنتے ہیں۔ تاہم اس سزا کا فیصلہ کرنے والا اور اس کو نافذ کرنے والا خدا ہے، نہ کہ کوئی انسان۔ 1985 جنوری 25 انگریزی کا ایک مثل ہے کہ کیل کے عین سر پر مارنا: Hitting the nail on the head. یہ مثل بہت بامعنی ہے۔ اس میں ایک مادی مثال کے ذریعہ انسانی کامیابی کا راز بتایا گیا ہے۔ یہ ایک معلوم بات ہے کہ کیل جب کسی چیز پر ٹھونکی جاتی ہے، تو اس کے ٹھیک سر پر ہتھوری ماری جاتی ہے۔ اگر ہتھوری کی مار ادھر ادھر پڑے، تو وہ صحیح طور پر اندر نہیں داخل ہوگی، بلکہ ٹیڑھی ترچھی ہو کر رہ جائے گی۔ اسی طرح زندگی کے معاملات میں یہ جاننا پڑتا ہے کہ ٹھیک ٹھیک وہ کون سا مقام ہے جہاں ضرب لگانی چاہیے۔ صحیح ضرب کے نتیجہ ہی کا دوسرا نام کامیابی ہے۔ مثلاً آپ کسی موضوع پر اظہارِ خیال کر رہے ہیں یا کسی شخص سے ایک اختلافی موضوع پر بحث کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں اگر آپ وہ بات کہیں جو ٹھیک ٹھیک موضوع کے اوپر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page