پیش لفظ
Urdu book, p. 18
By Maulana Wahiduddin Khan
چسپاں ہوتی ہو تو سننے والا آپ کے نقطۂ نظر کو ماننے پر مجبور ہو جائے گا۔ اس کے برعکس اگر آپ ایسی باتیں کریں جو زیرِ بحث موضوع پر ٹھیک فٹ نہ بیٹھتی ہو، تو آپ کی بات لوگوں کو بے وزن محسوس ہوگی۔ وہ اپنے آپ کو اندرونی طور پر مجبور نہ پائیں گے کہ آپ کے نقطۂ نظر سے اتفاق کر لیں۔ 26 جنوری 1985 لارڈ میو نے اپنا ایک واقعہ لکھا ہے کہ وہ ایک بار ایک جزیرے میں تھے۔ وہاں انھیں غروبِ آفتاب کا منظر دیکھنے کا موقع ملا۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ منظر اتنا حسین تھا کہ میں نے چاہا کہ اس کو ہمیشہ دیکھتارہوں: I wish I could see this sunset forever. نیچر بے حد حسین ہے ۔ اس کو دیکھنے سے کبھی آدمی کا جی نہیں بھرتا۔ آدمی چاہتا ہے کہ نیچر کو مستقل طور پر دیکھتا رہے۔ مگر زندگی کے تقاضے اس کو مجبور کرتے ہیں، اور اس سے سیر ہوئے بغیر وہ اس کو چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ نیچر (nature) موجودہ دنیا میں جنت کی نمائندہ ہے۔ وہ آخرت کی جنت کی ایک جھلک ہے۔ جنت میں جو لطافت ، جو حسن، جو بے پناہ کشش ہوگی ، اس کا ایک دور کا مشاہدہ موجودہ دنیا میں نیچر کی صورت میں ہوتا ہے۔ نیچر ہم کو جنت کی یاد دلاتی ہے ۔ وہ ہم کو بتاتی ہے کہ دنیا میں جنت والے عمل کرو تا کہ آخرت میں خدا کی جنت کو پا سکو۔ دنیا میں آدمی جنت کی جھلک سے بھی پوری طرح لطف اندوز نہیں ہوسکتا۔ مگر آخرت کی کامل دنیا میں آدمی کے لیے ممکن ہوگا کہ وہ جنت سے آخری حد تک لطف اندوز ہو سکے۔ عرب ممالک کے سفر کے دوران اگست 1982 میں میری ملاقات ایک مصری نوجوان سے ہوئی تھی۔ ان کا نام ڈاکٹر محمد سعید مراد ہے۔ انھوں نے مصر کے انور سادات (1981-1918)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader