17 اکتوبر 1985
Urdu book, p. 194
By Maulana Wahiduddin Khan
پڑتا ہے، مسلم رہنماؤں نے اپنی پر فخر نفسیات کی بنا پر چھوٹی سطح کے کام کو اپنے شایانِ شان نہ پر ہے، اور انسانوں کے پس پردہ کیا ہے؟ سمجھا، اس لیے وہ کوئی حقیقی تعمیری کام بھی انجام نہ دے سکے۔ نہ گرا، نہ تضاد، بلکہ یہ کہ وہ انسان کے نام آپ میں زندگی کا سہارا ایک اعتبار زندگی دو متضاد پہلوؤں کے درمیان نباہ کرنے کا نام ہے۔ زندگی کا سفر ایک اعتبار سے تنی ہوئی رسی پر چلنے (tight-rope walking) کی مانند ہے۔ آدمی کو بیک وقت دو سمتوں کی رعایت کرتے ہوئے چلنا پڑتا ہے۔ اس دو طرفہ توازن میں اگر فرق آجائے تو زندگی کا سارا معاملہ بگڑ کر رہ جائے گا۔ قمیض کے بٹن میں الجھے ہوئے شخص کو بٹن کھولنے کی ضرورت نہیں ں میں، اور بات اں شخص، کہ گوٹا ن قدیم زمانے میں اپنی محبوب شخصیت کو بڑھانے اور اپنی ناپسندیدہ شخصیت کو گھٹانے کے لیے بہت سے قصے گھڑے گئے۔ ایک مثال یہ ہے: کہا جاتا ہے کہ امام ابوحنیفہ (80-150ھ) تحصیلِ علم کے لیے مدینہ گئے۔ وہاں ان کی ملاقات امام باقر (57-114ھ) سے ہوئی۔ تعارف کے بعد امام باقر نے کہا۔ کیا تم ہی قیاس کی بنا پر ہمارے دادا کی حدیثوں کی مخالفت کرتے ہو۔ ابوحنیفہ نے کہا عیاذ باللہ، حدیث کی کون مخالفت کر سکتا ہے۔ پھر مختصر گفتگو کے بعد دونوں میں حسبِ ذیل مکالمہ ہوا: ابوحنیفہ: مرد ضعیف ہے یا عورت امام باقر: عورت ابوحنیفہ: وراثت میں مرد کا حصہ زیادہ ہے یا عورت کا۔ امام باقر: مرد کا پھر وہ گفتگو اس انداز تک پہنچ گئی کہ ابو حنیفہ: اگر میں قیاس لگاتا تو عورت کو زیادہ حصہ دیا جائے ۔ کیوں کہ ظاہر قیاس کی بنا پر ضعیف کو زیادہ ملنا چاہیے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader