26 اکتوبر 1985
Urdu book, p. 197
By Maulana Wahiduddin Khan
کرکے وہ بالآخر دونوں کو palੇ گا۔ یہی بات ہے جس کو ایک مفکر نے ان الفاظ میں ادا کیا ہے— مسائل کو بھوکا رکھو، مواقع کو کھلاؤ: Starve the Problems, Feed the Opportunities. 28 اکتوبر 1985 رمضان کے بارے میں مختلف روایتیں حدیث کی کتابوں میں آئی ہیں۔ ان میں سے ایک روایت یہ ہے : وَ صُفّدَتِ الشَّيَاطِينُ ( صحیح مسلم، حدیث نمبر 1079)۔ یعنی اور اس ماہ میں شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں۔ حدیث کے الفاظ کو اس کے ظاہری مفہوم میں لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ رمضان کے مہینے میں تمام دنیا کے شیاطین علی الاطلاق (absolute sense) قید کر دیے جاتے ہیں۔ حالاں کہ یہ بات بداہۃً (prima facie) خلاف واقعہ ہے۔ کیوں کہ دیکھنے میں آتا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں وہ تمام گناہ بدستور ہوتے رہتے ہیں جو سال کے دوسرے مہینوں میں ہوتے ہیں۔ اس لیے حدیث کا مفہوم قید کے ساتھ لینا ہوگا۔ یعنی یہ کہ سنسیریٹی (sincerity) کے ساتھ روزہ رکھنے والوں کے لیے اللہ کی مدد آتی ہے، اور شیاطین کا ان پر غلبہ نہیں ہو پاتا ہے۔ یعنی جو لوگ سچی اسپرٹ کے ساتھ روزہ رکھتے ہوں ان کے اندر رمضان میں گناہوں کی تحریک نہیں ہوتی یا بہت کم ہو جاتی ہے۔ اس قسم کے لوگوں کی حالت کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ إِلَّا مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْغَاوِينَ (15:42)۔ یعنی بیشک جو میرے بندے ہیں، ان پر تیرا زور نہیں چلے گا۔ سوا ان کے جو گمراہوں میں سے تیری پیروی کریں۔ حدیث ایک دعوتی اور تربیتی کلام ہے، اور دعوتی اور تربیتی کلام میں یہی انداز زیادہ مؤثر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader