اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 198
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے ۔ منطقی اسلوبِ دعوت و تربیت کے لیے مؤثر نہیں ۔ اگر یہ کہا جاتا کہ ” جو روزہ دار پورے شرائط و آداب کے ساتھ روزہ رکھے اس کے شیاطین قید کر دیے جائیں گے “ ، تو کلام کی تاثیر نسبتاً کم ہو جاتی ۔ 29 اکتوبر 1985 ایک حدیثِ رسول ہے ، جس کے الفاظ یہ ہیں : وَلَایَزَالُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرَ اَلصَّلَاةَ (صحیح البخاری ، حدیث نمبر 647)۔ یعنی ، ایک شخص اس وقت تک برابر نماز میں رہتا ہے جب تک وہ (مسجد میں) نماز کا منتظر رہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ صرف مسجد میں موجود رہنا ہی ثواب کا باعث بن جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص نفسیاتِ نماز کے ساتھ نماز کے انتظار میں ہو اس کا یہ وقت بھی نماز میں شمار ہو جاتا ہے اور اس کو وہی ثواب ملتا ہے جو نمازِ پڑھنے والے کو ملتا ہے۔ اس طرح کی حدیثوں کو سمجھنے کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ کسی پتھر کے مجسمہ یا روبوٹ کے بارے میں نہیں ہیں، بلکہ زندہ انسان کے بارے میں ہیں۔ انسان سوچتا ہے۔ وہ صاحبِ نفسیات مخلوق ہے۔ ایسا انسان جب نماز کے انتظار میں بیٹھا ہو تو اس کا بیٹھنا سادہ قسم کا بیٹھنا نہیں ہوتا۔ وہ اگر سچا نمازی ہے تو نماز کے انتظار کے وقت بھی نماز کے بارے میں سوچے گا۔ اس وقت بھی اس کا دل خدا میں لگا رہے گا۔ یہی وہ کیفیت ہے، جو اس کے انتظارِ نماز کے لمحات کو بھی ادائینگی نماز کے لمحات میں شامل کر دیتی ہے۔ 30 اکتوبر 1985 عکرمہ نے روایت کیا کہ عبد اللہ بن عباس نے قرآن کی سورہ الحدید آیت 23 کے تحت کہا: لَيْسَ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَهُوَ يَحْزَنُ وَيَفْرَحُ ، وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ يَجْعَلُ مُصِيبَتَهُ صَبْرًا ، وَغَنِيمَتَهُ شُكْرًا (تفسیر القرطبی، جلد 17 ، صفحہ 258)۔ یعنی، کوئی ایسا شخص نہیں جو غم گین نہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader