Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 199

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوتا ہو اور خوش نہ ہوتا ہو مگر مومن اپنی مصیبت کو صبر بنا لیتا ہے، اور اپنے فائدہ کو شکر بنا لیتا ہے۔ گائے کے اندر گھاس داخل ہوتی ہے تو اس کا اندرونی نظام اس کو دودھ میں تبدیل کر دیتا ہے اور گھاس اس کے اندر سے دودھ بن کر نکلتی ہے۔ اسی طرح مومن کے اندر ایک خصوصی نفسیاتی نظام ہوتا ہے۔ یہ نظام مصیبت کو خدا کے لیے صبر میں بدل دیتا ہے اور راحت کو خدا کے لیے شکر میں۔ اس طرح دونوں حالتیں اس کے حق میں نعمت بن جاتی ہیں۔ اس روایت میں "یَجْعَلُ" کا لفظ بہت بامعنیٰ ہے، یعنی وہ اپنے غم کو منفی راستے پر لگانے کے بجائے صبر میں کنورٹ کرتا ہے۔ 31 اکتوبر 1985ء قرآن میں آیا ہے: فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَبَ عَلَى اللَّهِ وَكَذَّبَ بِالصِّدْقِ إِذْ جَاءَهُ أَلَيْسَ فِي جَهَنَّمَ مَثْوًى لِلْكَافِرِينَ. وَالَّذِي جَاءَ بِالصِّدْقِ وَصَدَّقَ بِهِ أُولَئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ. لَهُمْ مَا يَشَاءُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ ذَلِكَ جَزَاءُ الْمُحْسِنِينَ (39:32-34)۔ یعنی پھر اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ پر جھوٹ بولا اور اس نے سچی بات کو جھٹلایا جب کہ وہ اس کے پاس آئی۔ کیا منکروں کا ٹھکانا دوزخ میں نہیں۔ اور جو سچی بات لے کر آیا اور جس نے اس کو سچ مانا وہی لوگ ڈرنے والے ہیں۔ ان کے لیے وہ ہے جو وہ چاہیں۔ یہ بدلا ہے نیکی کرنے والوں کا۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ سچائی کا اعتراف کرنا سب سے بڑی نیکی ہے، اور سچائی کا انکار کرنا سب سے بڑا جرم۔ سچائی کا ظہور گویا خود خدا کا ظہور ہے۔ اس لیے سچائی کو نظر انداز کرنا خدا کو نظر انداز کرنا ہے۔ ایسے لوگ قیامت کے دن بالکل ذلیل و خوار ہو کر رہ جائیں گے۔ جن لوگوں کے دلوں میں تقویٰ (کھٹک) ہو، ان کے سامنے جب سچائی آتی ہے تو وہ سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور کرتے ہیں۔ ان کا سنجیدہ غور و فکر انھیں یہاں تک پہنچاتا ہے کہ وہ سچائی کو پالیں اور اس کا اعتراف کر کے اس کے ساتھی بن جائیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page