Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 201

By Maulana Wahiduddin Khan

میں اکثر سوچتا تھا کہ درخت اتنے زیادہ حسین کیوں معلوم ہوتے ہیں۔ آخر اس کی وجہ یہ سمجھ میں آئی کہ درخت دوسروں کی زندگی میں دخل نہیں دیتے۔ ہر درخت اپنے آپ میں جیتا ہے۔ ہر درخت اپنا رزق خود حاصل کرتا ہے۔ مزید یہ کہ وہ دنیا سے جتنا لیتا ہے اس سے زیادہ وہ دنیا کو لوٹاتا ہے۔ وہ دنیا سے "مٹی اور پانی جیسی چیزیں لیتا ہے مگر وہ اس کو ہریا لی اور پھول اور پھل کی صورت میں واپس کرتا ہے۔ انسان کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔ انسان دوسروں کی زندگی میں مداخلت کر کے انھیں اشتعال کرتا ہے۔ وہ دوسروں کا استحصال کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ دوسروں کو کچھ نہ دے اور دوسروں سے ان کا سب کچھ لے لے۔ یہی فرق ہے جس نے درخت کو ہر ایک کے لیے پر کشش بنا دیا ہے۔ اور انسان کو ایسا بنا دیا ہے جس میں دوسروں کے لیے کوئی کشش نہیں۔ 4 نومبر 1985 ہندوستانی مسلمانوں کی تقریریں اور تحریریں پڑھیے تو ایسا معلوم ہوگا گویا کہ وہی ہیں جنھوں نے ہندوستان کو آزادی دلائی۔ وہی ہیں جنھوں نے سر دھڑ کی بازی لگا کر ہندوستان کو بیرونی سیاسی قبضہ سے آزاد کیا۔ مگر آزادی کے بعد لکھنے والوں نے ہندوستان کی جو تاریخ لکھی ہے اس میں مسلمانوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ تاریخ آزادی ہند میں مسلمان صرف تاریخ کے فوٹ نوٹ (footnote of history) بن کر رہ گئے ہیں۔ بڑا کام وہ ہے جس کا اعتراف کرنے پر دوسرے لوگ مجبور ہو جائیں۔ جو کام ہمارے اپنے ذہنی سانچہ میں بڑا ہو، اور اس سے باہر جاتے ہی وہ چھوٹا ہو جائے وہ دراصل بڑا کام تھا ہی نہیں۔ ہر انسان کے اوپر فطرت کا ایک چوکی دار مقرر ہے، جو اس کو برائی سے روکتا ہے۔ یہ حیا اور شرم کا جذبہ ہے۔ جس آدمی کے اندر حیا نہ رہے، اس کے اندر گویا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page