Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 202

By Maulana Wahiduddin Khan

برائی کا آخری روک باقی نہ رہا۔ حیا کے سلسلے میں دو روایتیں یہ ہیں : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسَ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ، إِذَا لَمْ تَسْتَحْيِ فَافْعَلْ مَا شِئْتَ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 3483 ) ۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: نبوت کے ذریعہ لوگوں کو جو بات ملی، ان میں سے ایک بات یہ ہے : جب تمھارے اندر شرم نہ رہے تو جو چاہا کرو۔ علقمہ بن علاثہ نے سے کہا: یا رَسُولَ اللَّهِ عَظِنِی۔ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَحْيِ مِنَ اللَّهِ تَعَالَى اسْتِحْيَاءَكَ مِنْ ذَوِي الهَيْبَةِ مِنْ قَوْمِكَ ( ادب الدنیا والدین للماوردی، صفحہ 249) ۔ یعنی اے خدا کے رسول! مجھے نصیحت کیجیے۔ آپ نے فرمایا: اللہ سے اس طرح حیا کرو جس طرح تم اپنی قوم کی پرہیبت شخصیتوں سے حیا کرتے ہو۔ 6 نومبر 1985 قرآن میں اہلِ جنت کے بارے میں آیا ہے کہ وہ با اقتدار بادشاہ کے پاس سچی نشستوں پر بیٹھے ہوئے ہوں گے ( فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ ) 54:55 ۔ موجودہ دنیا میں آدمی جھوٹی نشستوں پر بیٹھا ہوا ہے۔ آخرت میں آدمی سچی نشستوں پر بٹھایا جائے گا۔ موجودہ دنیا میں ہر آدمی فریب اور استحصال (exploitation) کے ذریعہ اونچی جگہ پائے ہوئے ہے۔ یہاں ہم کو ایسے لوگوں کے درمیان زندگی گزارنا پڑتا ہے، جو اپنے آپ کو اس کا پابند نہیں سمجھتے کہ وہ اپنے اختیار کو صرف عدل کے دائرے میں استعمال کریں۔ آخرت کا معاملہ اس سے مختلف ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کا کامل اختیار حاصل ہے۔ مگر اس نے اپنے آپ کو اس کا پابند بنا رکھا ہے کہ وہ عدل اور رحمت ہی کے دائرہ میں اپنے اعلیٰ اختیارات کو استعمال کرے۔ اس سلسلے میں قرآن کے متعلق الفاظ یہ ہیں : كَتَبَ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ (6:12) ۔ یعنی اس نے اپنے اوپر رحمت لکھ لی ہے۔ اسی کے ساتھ وہ ایک ایسی ہستی ہے، جو اعلیٰ ترین معیاری ذوق رکھتا ہے۔ وہ پرفیکٹ سے کم پر کبھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page