Urdu book · اوراقِ حکمت

8 نومبر 1985

Urdu book, p. 204

By Maulana Wahiduddin Khan

کامیابی کی منزل پر پہنچ جاتے ہیں ۔ آپ کھونے کے باوجود پا سکتے ہیں، بشرطیکہ آپ کھونے کے باوجود پانے کی جدوجہد کرسکیں ۔ ایک حدیثِ رسول ان الفاظ میں آتی ہے: عَنْ سَخْبَرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أُعْطِيَ فَشَكَرَ، وَابْتُلِيَ فَصَبَرَ، وَظُلِمَ فَاسْتَغْفَرَ، وَظُلِمَ فَغَفَرَ۔ ثُمَّ سَكَتَ۔ فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالَهُ؟ قَالَ: أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ (المجم الكبير للطبرانی، حدیث نمبر (6613) ۔ یعنی صحابی رسول سخبرہ الازدی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: جس کو دیا گیا پھر اس نے شکر کیا، اور اس کو آزمایا گیا پھر اس نے صبر کیا، اور اس پر ظلم کیا گیا تو اس نے معاف کر دیا۔ اتنا کہہ کر آپ چپ ہو گئے۔ لوگوں نے کہا کہ اے خدا کے رسول، ایسے شخص کے لیے کیا ہے؟ آپ نے کہا: انھیں لوگوں کے لیے امن ہے، اور وہی لوگ ہدایت یاب ہیں۔ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أُصِيبَ بِمُصِيبَةٍ بِمَالِهِ، أَوْ فِي نَفْسِهِ، وَكَتَمَهَا، وَلَمْ يَشْكُهَا إِلَى النَّاسِ، كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ (المجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر (737) ۔ یعنی ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: جس کے مال یا اس کے جان میں کوئی مصیبت پڑے، پھر وہ اس کو چھپالے اور لوگوں سے اس کی شکایت نہ کرے تو اللہ پر اس کا حق ہے کہ وہ اس کو بخش دے۔ امریکا کے تیسرے صدر تھامس جیفرسن (1743-1826 ,Thomas Jefferson) کا قول ہے کہ تمام صفات میں سب سے قیمتی صفت یہ ہے کہ جہاں ایک لفظ بولنے سے کام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page