Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 203

By Maulana Wahiduddin Khan

راضی نہیں ہوتا۔ ایسے شہنشاہ کے پڑوس میں جگہ پانا کس قدر پر مسرت اور لذيذ ہو گا اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ اَللّٰهُمَّ إِنَّكَ مَلِكٌ مُقْتَدِرٌ، مَا تَشَاءُ مِنْ أَمْرِ يَكُونُ، فَاسْتَعْمِلْنِي فِي الدَّارَيْنِ، وَ كُنْ بِي وَ لَا تَكُنْ عَلَيَّ، وَ آتِنِي فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً، وَ قِنِي عَذَابَ النَّارِ۔ 7 نومبر 1985 موجودہ زمانے کے مسلمانوں کی تقریریں سنیے یا ان کی تحریریں پڑھیے تو واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ ان کی سوچ تمام تر قومی سوچ ہے۔ وہ خواہ قومی الفاظ بول رہے ہوں یا نظریاتی الفاظ، لیکن ان کی باتوں کا گہرائی کے ساتھ تجزیہ کیجیے تو اس کے اندر سے صرف ”قومی اسلام“ بر آمد ہو گا۔ مسلمانوں کی قومیت اور دوسروں کی قومیت میں بس یہ فرق ہے کہ دوسرے لوگوں کے پاس اپنے اجتماعی تشخص کو بتانے کے لیے اگر قوم کا لفظ ہے تو مسلمان ”خیر امت“ کا پر فخر لفظ پائے ہوئے ہیں۔ دوسرے کے پاس اگر صرف کتاب ہے تو مسلمانوں کے پاس کتاب کامل ہے۔ دوسروں کے پاس اگر ”نبی“ ہے تو مسلمانوں کے پاس افضل الانبیاء۔ دوسروں کے لیے جہنم کا خطرہ ہو سکتا ہے مگر مسلمانوں کو یہ خوش قسمتی حاصل ہے کہ ان کے لیے جنت کے بہترین محلات پیشگی طور پر رزرو (reserve) ہو چکے ہیں ۔ آہ، وہ مسلمان جو اپنے آپ کو دین خداوندی میں نہ ڈھال سکے، البتہ دین خداوندی کو اپنے آپ میں ڈھال لیا۔ 8 نومبر 1985 حادثہ موجودہ دنیا میں ہر ایک کے ساتھ پیش آتا ہے۔ مگر کوئی حادثہ، خواہ وہ کتنا ہی سخت ہو، کسی آدمی کو صرف جزئی طور پر نقصان پہنچاتا ہے، وہ اس کو آخری طور پر تباہ نہیں کرتا۔ حادثہ کے بعد جو لوگ کھوئى ہوئی چیز کا غم کریں، وہ صرف اپنی بربادی میں اضافہ کرتے ہیں۔ جو لوگ حادثہ پیش آنے کے بعد بچی ہوئی چیز پر اپنی ساری توجہ لگا دیں وہ از سر نو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page