Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 206

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ جو کچھ انسان کو موجودہ دنیا میں حاصل ہے، ان کے بارے میں دو نقطہ نظر ہو سکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ یہ سب چیزیں ہماری ہیں، ہم ان کے مالک ہیں۔ دوسرا یہ کہ ہم ان میں سے کسی چیز کے خود مالک نہیں ۔ ہر چیز خدا کی ہے۔ جو کچھ ہمارے پاس ہے، وہ سامانِ امتحان کے طور پر ہے، نہ کہ سامان ملکیت کے طور پر ۔ پہلا ذہن ناشکری کا ذہن ہے، اور دوسرا ذہن شکر گزاری کا ذہن ۔ پہلے ذہن کے تحت جو زندگی بنتی ہے، اس کا نام کفر ہے، اور دوسرے ذہن کے تحت جو زندگی بنتی ہے، اس کا نام اسلام ہے۔ پہلے ذہن کے تحت زندگی گزارنے والے کے لیے جہنم ہے، اور دوسرے ذہن کے تحت زندگی گزارنے والے کے لیے جنت ۔ 15 نومبر 1985 ظن (گمان) کا مطلب ہوتا ہے کسی کے بارے میں کوئی خاص رائے رکھنا، ذہن میں کسی کے بارے میں کوئی امیج بنانا، خواہ وہ اچھا ہو یا برا : To have a particular opinion about something or someone, to have a picture in the mind. انسان کو اپنے خالق کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے۔ اس تعلق سے مختلف احادیث میں رہنمائی کی گئی ہے۔ مثلاً ایک حدیث رسول یہ ہے : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَهُ حَيْثُ يَذْكُرُنِي (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2675، مسند احمد، حدیث نمبر 10782) ۔ یعنی ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے بارے میں بندے کے گمان کے پاس ہوں اور میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے۔ دوسری روایتوں میں کچھ مختلف الفاظ آئے ہیں ۔ چند الفاظ یہ ہیں :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page