Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 207

By Maulana Wahiduddin Khan

(1) أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، فَلْيَظُنَّ بِي مَا شَاءَ (مسند احمد، حدیث نمبر 16016) ۔ یعنی، میں اپنے بارے میں بندے کے گمان کے مطابق ہوں۔ پس وہ جیسا چاہے میرے بارے میں گمان کرے۔ (2) أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2675) ۔ یعنی، میں اپنے بارے میں بندے کے گمان کے مطابق ہوں، اور میں اس کے ساتھ ہوں، جب وہ مجھ کو پکارے۔ (3) أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، إِنْ ظَنَّ خَيْرًا فَخَيْرٌ، وَإِنْ ظَنَّ شَرًّا فَشَرٌّ (المعجم الاوسط للطبرانی، حدیث نمبر 401) ۔ یعنی میں اپنے بارے میں بندے کے گمان کے پاس ہوں۔ اگر اس نے اچھا گمان کیا تو خیر ہے، اور اگر اس نے برا گمان کیا تو برا ہے۔ 1985 نومبر 16 حضرت بریدہ اسلمی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا: اَللَّهُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ بِأَنِّيْ أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ الْأَحَدُ الصَّمَدُ، الَّذِيْ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، قَالَ: فَقَالَ: وَالَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِيْ إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى (سنن الترمذی، حدیث نمبر 3475)۔ یعنی اے اللہ میں تجھ سے سوال کرتا ہوں، کیوں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تو ہی اللہ ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو اکیلا ہے، بے نیاز ہے، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے، اور کوئی اس کے برابر کا نہیں ۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس آدمی نے اللہ کا ایک بہت بڑا نام (اسمِ اعظم) لے کر دعا کی ہے۔ یہ نام لے کر جب سوال کیا جائے تو وہ پورا کیا جاتا ہے اور جو دعا کی جائے وہ قبول ہوتی ہے۔ اس حدیث کے مطابق لوگوں کو تلاش ہوئی کہ خدا کا ”اسمِ اعظم“ کیا ہے۔ اس تلاش

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page