Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 209

By Maulana Wahiduddin Khan

زندہ لوگ باڈرائیور گاڑی کی طرح ہیں اور مردہ لوگ بے ڈرائیور گاڑی کی طرح۔ اس دنیا میں صرف زندہ لوگوں کا سفر کامیابی پر ختم ہوتا ہے۔ مردہ لوگوں کا انجام اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ یک طرفہ طور پر دوڑتے رہیں، یہاں تک کہ کسی چٹان سے ٹکرا کر ختم ہو جائیں۔ 19 نومبر 1985 پیغمبر اسلام کے حوالے سے قرآن میں ایک حکم ان الفاظ میں آیا ہے: وَلا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ مَا عَلَيْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِنْ شَيْءٍ وَمَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَيْهِمْ مِنْ شَيْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ. وَكَذَلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِيَقُولُوا أَهَؤُلاءِ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنْ بَيْنِنَا أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَعْلَمَ بِالشَّاكِرِينَ (53-52: 6)۔ یعنی اور تم ان لوگوں کو اپنے سے دور نہ کرو جو صبح وشام اپنے رب کو پکارتے ہیں، اس کی خوشنودی چاہتے ہیں ۔ ان کے حساب میں سے کسی چیز کا بوجھ تم پر نہیں اور تمہارے حساب میں سے کسی چیز کا بوجھ ان پر نہیں کہ تم ان کو اپنے سے دور کر کے بے انصافوں میں سے ہو جاؤ، اور اس طرح ہم نے ان میں سے ایک کو دوسرے سے آزمایا ہے تا کہ وہ کہیں کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل ہوا ہے۔ کیا اللہ شکر گزاروں سے خوب واقف نہیں۔ حق کے حامل اکثر وہ لوگ ہوتے ہیں جو ظاہر کے اعتبار سے کوئی امتیازی اہمیت نہیں رکھتے۔ نیز بے آمیز حق کو اختیار کرتے ہی آدمی نیشنل مین اسٹریم سے نکل جاتا ہے۔ یہ چیز بھی اس کو لوگوں کی نظر میں غیر اہم بنا دیتی ہے۔ مگر یہ صورت حال باقی رہے گی یہاں تک کہ قیامت آجاتے۔ کیوں کہ اس دنیا میں یہی اصل امتحان ہے کہ آدمی غیب (چھپی ہوئی حقیقتوں) کو پہچانے۔ وہ کسی سچائی لانے والے انسان کو جوہر (خوبی) کی سطح پر پہچانے، نہ کہ محض ظاہر کی سطح پر۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page