اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 208
By Maulana Wahiduddin Khan
میں بہت سی دوسری روایتیں بھی ملیں جن میں یہی بات کہی گئی تھی۔ مگر ان روایتوں میں دوسرے ایسے اسماء تھے جو اس حدیث میں نہیں ہیں۔ البتہ لفظ اللہ تمام روایتوں میں مشترک تھا، اس سے یہ استدلال (reasoning) قائم کر لیا گیا کہ اللہ ہی اسم اعظم ہے (أَنَّ لَفْظَ اللَّهِ مَذْكُورُ فِي الْكُلِّ فَيُسْتَدَلُّ بِذَلِكَ عَلَى أَنَّهُ الِاسْمُ الْأَعْظَم) تحفة الاحوذی، جلد 9، صفحہ 313۔ اس استنباط (inference) کے مطابق لوگ "اللہ" کو اسم اعظم سمجھ کر اس کا ورد کرنے لگے۔ مگر حدیث کا یہ مطلب نہیں۔ حدیث میں لفظ "اسم" صفت کے معنی میں ہے اس سے مراد کوئی خاص لفظ نہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ جب آدمی اللہ کی صفات عالیہ کو دریافت کرتا ہے اور اس کا اظہار کرتے ہوئے بے تابانہ خدا کو پکارتا ہے تو ایسی پکار ضرور قبولیت کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔ 18 نومبر 1985 ایک انسان جب گاڑی کو چلاتا ہے تو اس کا نام بھی چلنا ہے، اور اگر گاڑی کا انجن چلا کر اسے چھوڑ دیں تب بھی وہ دوڑے گی اور اس کو بھی چلنا کہا جائے گا۔ مگر حقیقت میں چلنا وہی ہے جب کہ انسان گاڑی کو چلا رہا ہو (یا ایسی گاڑی ہو جو آٹو پائلٹ (autopilot) سسٹم سے لیس ہو، جس کو سیلف ڈرائیونگ کار کہا جاتا ہے)۔ کیوں کہ انسان گاڑی کو چلانے کے ساتھ اس کو روکنا بھی جانتا ہے۔ وہ آگے بڑھانے کے ساتھ اس کو موڑنا بھی جانتا ہے۔ جب کہ ڈرائیور کے بغیر جو گاڑی ہو وہ صرف سیدھی دوڑتی رہے گی، یہاں تک کہ کہیں ٹکرا کر ختم ہو جائے گی۔ یہی معاملہ زندگی کے سفر کا ہے۔ زندگی میں کبھی بولنا ضروری ہوتا ہے اور کبھی چپ رہنا۔ کبھی ضرورت ہوتی ہے کہ آگے بڑھنے کے بجائے پیچھے کی طرف ہٹ جائیں۔ کبھی ضروری ہوتا ہے کہ اپنی شرطوں پر اصرار نہ کیا جائے بلکہ دشمن کی شرطوں کو مان لیا جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader