اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 212
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ آپ اس آیت کا مطلب نہیں سمجھے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جب کسی حاجت مند کی مدد کی جائے تو اس وقت زبان سے یہ الفاظ دہرائے جاتے رہیں ۔ اس سے مراد الفاظ نہیں بلکہ احساسات ہیں۔ یعنی جب کسی کے ساتھ حسن سلوک کیا جائے تو آدمی کے دل میں یہ احساس طاری ہونا چاہیے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ان الفاظ کو یاد کرلے اور ہر ایسے موقع پر ان الفاظ کو دہرادیا کرے۔ کبھی زبان سے کچھ الفاظ بھی نکل پڑتے ہیں، مگر اصلأ یہاں جس چیز کا ذکر ہے وہ احساسات ہی ہیں۔ 23 نومبر 1985 قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر یہ بات کہی گئی ہے کہ قرآن عربی زبان میں ہے (بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُّبِينٍ) 26:196۔ اس قسم کی آیات کے تحت یہ بحث چھڑ گئی کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ کیوں کہ قرآن میں بہت سے الفاظ غیر عربی ہیں۔ کسی نے کہا کہ قرآن میں 27 الفاظ غیر عربی ہیں۔ کسی نے اس کی گنتی 60 تک پہنچادی۔ مثلاً حسب ذیل الفاظ : سَلْسَبِیل، کَوْثَر، سِجِّیل، كَافُور، قَرَاطِيس، رَقّ، مِشْکَاة، سُرَادِق، سُنْدُس، إِسْتَبْرَق، قَسْوَرَة، فِرْدَوْس، تَنُّور، زَنْجَبِیل، عَبْقَرِيّ، وغیرہ۔ علما کی بڑی تعداد اس طرف گئی کہ جب قرآن کا یہ دعوی ہے کہ وہ عربی زبان میں ہے تو اس میں غیر عربی الفاظ نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ مذکورہ قسم کے فارسی، رومی، حبشی، نبطی، ہندی وغیرہ الفاظ کی موجودگی کی عجیب عجیب تاویلیں کی گئیں۔ مثلاً کہا گیا کہ یہ الفاظ اصلا عربی ہی کے تھے۔ کچھ دنوں کے بعد وہ عربی زبان سے مخفی ہو گئے۔ پھر قرآن نے دوبارہ ان کو عربی میں داخل کیا۔ یہ سب غیر ضروری تاویلات ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ہر زبان میں دوسری زبان کے الفاظ شامل ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود وہ زبان وہی رہتی ہے۔ مثلاً ٹامس پائلس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader