23 نومبر 1985
Urdu book, p. 213
By Maulana Wahiduddin Khan
(Thomas Pyles) کی ایک کتاب ہے جس میں اس نے انگریزی زبان کے آغاز و ارتقا سے بحث کی ہے۔ اس کا نام ہے: The Origins and Development of the English Language اس کتاب میں اس نے ہندی، لاطینی، فرانسیسی، روسی، جرمن وغیرہ زبان کے بہت سے الفاظ کی فہرست دی ہے جو انگریزی میں مستعمل ہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ یہ الفاظ اگر چہ ابتدا میں دوسری زبانوں کے تھے۔ مگر جب وہ انگریزی میں شامل ہو گئے تو وہ انگریزی ہو گئے، اور انگریزی پھر بھی انگریزی رہی: But English remains English. 1985 نومبر 25 ایک شاعر کا شعر ہے: ابھی بھولے نہیں ہم خالد و طارق کے افسانے فتوحاتِ صلاح الدین ابھی روشن ہے دنیا میں اس قسم کے اشعار اور اس قسم کی تقریروں اور تحریروں سے ہماری جدید تاریخ بھری ہوئی ہے۔ ہر آدمی جو اٹھتا ہے وہ یہیں سے اپنے کلام کا آغاز کرتا ہے کہ۔ ہم نے ایک ہزار برس تک دنیا پر حکومت کی ہے ۔ ہم نے روم و ایران کی سلطنتوں کے پر بچے اڑا دئے ۔ ہم نے ہندوستان سے لے کر فرانس تک اسلامی اقتدار کا جھنڈا گاڑ دیا، وغیرہ وغیرہ۔ موجودہ زمانہ میں تمام دنیا کے مسلمانوں کا ذہن یہی ہے۔ آج کا ہر شخص اس اسلامی تاریخ کو بطورِ اسلام جانتا ہے، جس نے فتح و غلبہ حاصل کیا۔ کوئی بھی شخص نہیں جو اس اسلام سے واقف ہو جس نے اقوامِ عالم کو دعوتِ ورحمت کا مخاطب بنایا۔ جس نے مکہ میں ہر قسم کے مظالم کے باوجود صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کیا۔ جو حدیبیہ کے موقع پر پسپائی کی پالیسی اختیار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader