Urdu book · اوراقِ حکمت

پیش لفظ

Urdu book, p. 21

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ مثل بہت با معنی ہے۔ زندگی میں ایسے مواقع آتے ہیں، جب کہ آدمی کو پیچھے ہٹنا پڑتا ہے، مگر وہ پسپائی نہیں ہے، جو منصوبہ بند ہو۔ یعنی آدمی پیچھے ہٹنے کے لیے قدم پیچھے نہ کرے، بلکہ اس کا پیچھے ہٹنا آگے بڑھنے کی ایک تدبیر ہو۔ وہ ایک قدم پیچھے ہٹے، تو اس لیے پیچھے ہٹے کہ اس کے ذریعہ اس کو دو قدم آگے بڑھنے کا راستہ ملے گا۔ 31 جنوری 1985 ایک مجذوب تھے۔ وہ گندی حالت میں سڑکوں پر پڑے رہتے تھے۔ لوگ ان سے کچھ کہتے تو ان کا جواب ہمیشہ صرف ایک ہوتا تھا: حرام کھاؤ، چوری کرو، ماں پرسؤ۔ لوگ حیران رہتے کہ مجذوب صاحب اس قسم کی الٹی بات کیوں کہتے ہیں۔ تاہم مجذوب صاحب نے کبھی اس کی تشریح نہیں کی۔ کوئی شخص ان الفاظ کا مطلب پوچھتا تو وہ بگڑ جاتے۔ مجذوب اسی طرح کہتے رہے۔ یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ مجذوب صاحب کے ایک معتقد سے میری ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ میں برسوں تک مجذوب صاحب کے الفاظ پر سوچتا رہا۔ آخر کار میری سمجھ میں آ گیا کہ وہ کیا کہتے تھے۔ ان کا مطلب تھا: غصہ کھاؤ، چھپ کر عبادت کرو، زمین پر سوؤ۔ اسلام تو ہم پرستی کو مٹانے آیا تھا مگر بعد کے زمانے میں خود مسلمان طرح طرح کے توہمات میں مبتلا ہو گئے۔ انھیں میں سے ایک ”مجذوب“ کا عقیدہ بھی ہے۔ شریعت میں مجذوب کوئی چیز نہیں۔ مگر لوگ جب کسی کو غیر معمولی حالت میں دیکھتے ہیں تو سمجھ لیتے ہیں کہ یہ کوئی مجذوب (پہنچے ہوئے شخص) ہیں، اور اس کی پرستش شروع کر دیتے ہیں۔ 1 فروری 1985 مہاتما گاندھی نے آزاد ہندوستان کے کانگریسی حکمرانوں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ خلیفہ ابو بکر اور خلیفہ عمر کے نمونہ کی پیروی کریں: We have to follow the example of Abu Bakr and Umar.

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page