پیش لفظ
Urdu book, p. 20
By Maulana Wahiduddin Khan
گئی ہو، جس سے سائنسی تحقیقات کی نفی لازم آئے۔ یہی وجہ ہے کہ پوری اسلامی تاریخ میں اس قسم کا کوئی واقعہ نہیں ملتا جو چرچ کی تاریخ میں ”گلیلیو“ کی صورت میں پایا جاتا ہے۔ اسلام میں اس کی ضرورت کبھی پیش نہیں آئی کہ علمی نظریات کے لیے کسی کی پکڑ دھکڑ کی جائے یا اس کو سزا دی جائے۔ نظریاتی احتساب کی مثالیں اسلامی تاریخ میں خالص مذہبی لوگوں کے یہاں نہیں پائی جاتیں۔ صرف معتزلہ کے یہاں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ اور یہ ایک معلوم بات ہے کہ معتزلہ کٹر مذہبی لوگ نہیں تھے۔ بلکہ یہ وہ لوگ تھے، جو اپنے آپ کو روشن خیال کہتے تھے، اور آزادی فکر کے علم بردار تھے۔ معتزلہ نے عباسی حکمرانوں کی مدد سے اپنے نظریاتی مخالفین کا زبردست احتساب کیا۔ اسی احتساب کی ایک مثال امام احمد بن حنبل ہیں۔ امام احمد بن حنبل کو زبردست سزائیں دی گئیں۔ صرف اس لیے کہ وہ ”خلق قرآن“ کے مسئلے میں معتزلہ کے خیالات سے اتفاق نہیں کرتے تھے۔ امام احمد بن حنبل کو مسلسل مارا گیا۔ مارنے والے ایک جلاد نے بعد میں اس ضرب کی شدت کے بارے میں کہا تھا: ضَرَبْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ ثَمَانِينَ سَوْطًا، لَوْ ضَرَبْتُهُ فِيلًا لَهَدَمْتُهُ (صفة الصفوة لابن الجوزی، جلد 1، صفحہ 485 )۔ یعنی، میں نے احمد بن حنبل کو 80 کوڑے مارے۔ اگر میں اس طرح کسی ہاتھی کو مارتا تو اس کو گرا دیتا۔ 30 جنوری 1985 ایک انجینئر صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے ماسکو یونیورسٹی سے انجینئرنگ کیا ہے۔ وہ روسی زبان بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ انھوں نے روس کے بارے میں کئی دلچسپ باتیں بتائیں۔ مثلاً انھوں نے لینن کا ایک مقولہ روسی زبان میں بتایا، جس کا ترجمہ یہ تھا: ”اگر ایک ہاتھ پیچھے کھسکوتو دو ہاتھ آگے بڑھنے کے ارادے سے“

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader