اوراقِ حکمت
Urdu book, p. 225
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے ۔ یہاں کی وزارتِ تعلیم عربی مدارس کو معقول امداد دیتی ہے ۔ ان مدارس میں رہ کر کوئی شخص کسی عربی مخطوطہ کو ایڈٹ کرنا چاہے یا کسی عربی موضوع پر ریسرچ کرنا چاہے تو اس کو تین سو روپیہ ماہوار کا وظیفہ دو سال تک دیا جاتا ہے ۔ عربی اور فارسی کے دو دو ممتاز عالموں کو حکومت ہر سال سند امتیاز دیتی ہے ۔ اوپر کی عبارت ایک اقتباس ہے ۔ یہ باتیں اگر یورپ کے کسی ملک کے بارے میں کہی جائیں تو مسلمانوں کو بہت اہم معلوم ہوگی ۔ مگر مسلمانوں کو یہ باتیں اس وقت بے وقعت معلوم ہونے لگتی ہیں ، جب انہیں بتایا جائے کہ یہ ہندوستان کی بات ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمان جب یورپ یا امریکہ جاتا ہے تو وہاں وہ بالکل غیر مزاحم (passive) بن کر رہتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ وہاں کے مواقع سے فائدہ اٹھا پا تا ہے اور اس کی اہمیت کو سمجھ لیتا ہے ۔ مگر ہندوستان میں مسلمان شکایت اور احتجاج کے ذہن کے ساتھ رہتے ہیں ۔ اس لیے یہاں انہیں طرح طرح کی مشکلوں سے سامنا پیش آتا ہے ۔ وہ ہندوستان کے مواقع کی قدر کرنے میں ناکام ثابت ہوتے ہیں ۔ 19 دسمبر 1985 قرآن (6:12) میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر رحمت کو لکھ رکھا ہے (کَتَبَ عَلَی نَفْسِہِ الرَّحْمَةَ) ۔ موجودہ دنیا میں انسان کے پاس اقتدار ہے ۔ مگر اس نے اپنے آپ کو رحمت اور عدل کا پابند نہیں کیا ہے ، اس لیے موجودہ دنیا فساد اور خرابیوں سے بھر گئی ہے ۔ مگر آخرت میں سارا اقتدار صرف اللہ کے پاس ہوگا ، اور اللہ نے ہر قسم کا مطلق اختیار رکھنے کے باوجود اپنے آپ کو رحمت اور عدل کا پابند کر رکھا ہے ۔ اس لیے آخرت کی دنیا سرا پا خیر ہوگی ۔ وہاں صرف وہی ہوگا جو حق کے اعتبار سے ہونا چاہیے ، اور وہ نہ ہو سکے گا جو حق کے اعتبار سے درست نہ ہو ۔ آخرت کی یہ خصوصیت آخرت کو ایک معیاری دنیا بنا دے گی ۔ اسی معیاری دنیا کا دوسرا نام جنت ہے ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader