Urdu book · اوراقِ حکمت

13 دسمبر 1985

Urdu book, p. 224

By Maulana Wahiduddin Khan

میں پہنچانا ہے، جو قرآن وسنت کی صورت میں ان کے پاس محفوظ ہے۔ مستشرقین نے جو کتابیں لکھی ہیں ان میں سے ایک نوع کی کتابیں وہ ہیں جو ”اسلامی قوموں کے مطالعہ“ پر لکھی گئی ہیں۔ ان کتابوں میں استدلال کا طریقہ بڑا عجیب و غریب ہوتا ہے۔ ان میں بعض غیر متعلق واقعات کو لے کر دکھایا گیا ہے کہ بعض قوموں (مثلاً الجزائر کے مسلمان) کا اسلام جانور پرستی، شجر پرستی اور ستارہ پرستی سے قریب ہے۔ حتیٰ کہ اسلام اور بت پرستی میں کوئی قابلِ ذکر فرق نہیں۔ بلکہ اسلام بت پرستی ہی کا تتمہ ہے۔ ان مستشرقین کی اکثریت عربی زبان سے برائے نام واقف تھی۔ اس لیے انھوں نے اسلام کو سمجھنے میں نہایت احمقانہ قسم کی غلطیاں کی ہیں۔ تاہم خود مستشرقین کے حلقے میں سے گہرا علم رکھنے والے لوگوں نے ان باتوں کی تردید کی ہے۔ پروفیسر (Alain) نے اس کمی کو محسوس کیا۔ انھوں نے ان مستشرقین کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا ہے کہ ”اگر میں اپنے قلم کو مخاطب کر کے یہ کہوں کہ اے میرے محبوب قلم، اور اس جملہ کو علم الاجتماع کے یہ ماہرین اپنی تحقیق میں شامل کر لیں تو وہ اس جملہ کو روحانیت سے منسوب کر دیں گے اور یہ کہیں گے کہ میں نے اپنے قلم میں ایک چھوٹا دیوتا دیکھ لیا تھا۔“ 18 دسمبر 1985 ”اس ملک میں عربی اور فارسی کو کلاسیکی زبان کی حیثیت حاصل ہے۔ حکومت ان کی ترقی پر کافی رقم خرچ کرتی ہے۔ یہاں کی تقریباً 20 یونی ورسٹیوں میں عربی کا شعبہ موجود ہے۔ ایسے کالجوں کی تعداد درجنوں تک پہنچتی ہے، جہاں عربی تعلیم کا انتظام ہے۔ اس کے علاوہ یہاں بہت بڑے بڑے دار العلوم (بالفاظ دیگر دینی مدارس) قائم ہیں۔ ان کی تعداد سو سے بھی زیادہ ہے۔ وہ کامل آزادی کے ساتھ عربی زبان اور دینی علوم کی اشاعت کا کام کر رہے ہیں۔ حکومت کے خرچ پر ایک عربی ماہ نامہ شائع ہوتا ہے۔ ریڈیو میں عربی کا پورا یونٹ قائم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page