Urdu book · اوراقِ حکمت

اوراقِ حکمت

Urdu book, p. 227

By Maulana Wahiduddin Khan

تعلق ایک خاندان کے افراد سے بھی ہے اور پوری قوم سے بھی۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث ان الفاظ میں آئی ہے: مََا أَكْرَمَ شَابٌّ شَيْخاً لِسِنِّهِ إِلاَّ قَيَّضَ اللَّهُ لَهُ مَنْ يُكْرِمُهُ عِنْدَ سِنِّهِ (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2022)۔ یعنی جو نو جوان کسی بوڑھے کی اس کے بڑھاپے کے وقت عزت کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے ایسے شخص کو مقدر کر دیتا ہے جو اس کے بڑھاپے کی عمر میں اس کی عزت کرے۔ اصل یہ ہے کہ ہر شخص اپنے عمل سے سماج کے اندر روایت (tradition) قائم کرتا ہے۔ اگر لوگ اپنے بوڑھوں کی عزت نہ کریں تو ماحول میں بوڑھوں کی بے عزتی کی روایت قائم ہوگی۔ اس کے برعکس، اگر لوگ اپنے بوڑھوں کی عزت کریں تو اس سے ماحول میں بوڑھوں کی عزت کرنے کی روایت قائم ہوگی۔ جس طرح آدمی اپنی بوئی ہوئی فصل کو کاٹتا ہے۔ اسی طرح لوگ اپنے ماحول میں جس قسم کی روایت قائم کریں اس کا ایک حصہ انھیں خود بھی بہر حال بھگتنا پڑتا ہے۔ 25 دسمبر 1985 پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَكْرَمَ النِّسَاءَ إِلاَّ كَرِيمٌ وَلَا أَهَانَهُنَّ إِلاَّ اللَّئِيمُ (تاریخ دمشق لابن عساكر، جلد 13، صفحہ 313)۔ یعنی علی ابن ابو طالب روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: عورت کی عزت وہی کرتا ہے جو شریف ہو اور عورت کی بے عزتی وہی کرتا ہے جو کمینہ ہو۔ انسان کی شرافت کا معیار وہ سلوک نہیں ہے، جو وہ طاقت ور کے ساتھ کرتا ہے، بلکہ شرافت کا معیار وہ سلوک ہے، جو وہ کمزور کے ساتھ کرتا ہے۔ عورت چوں کہ کمزور مخلوق ہے، اس لیے اکثر حالات میں وہ کسی کے شریف یا غیر شریف ہونے کا پیمانہ بن جاتی ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page