Urdu book · اوراقِ حکمت

پیش لفظ

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

آہ، انسان آج سیر بن کر رہنے پر راضی نہیں حالاں کہ اس پر وہ دن آنے والا ہے جب کہ وہ نہ ہی سیر رہے گا اور نہ سوا سیر۔ بلکہ وہ کچھ نہ ہوگا۔ کیوں کہ اللہ کے مقابلہ میں کسی کی کوئی حیثیت نہیں۔ اگر لوگ جان لیں کہ بالآخر وہ کچھ بھی نہ رہیں گے تو وہ خود ہی ”سیر“ بنے پر راضی ہو جائیں اور پھر تمام جھگڑے بھی اچانک ختم ہو جائیں۔ 8 فروری 1985 محمد المجدوب (1907-1999) ایک شامی ادیب اور شاعر ہیں۔ ان کی تین جلدوں میں ایک کتاب ہے، جس کا نام ہے: عُلَمَاءُ وَ مُفَکِّرُونَ عَرَفْتُهُمْ۔ اس کتاب میں انھوں نے لکھا ہے: أَقِيمُوا دَوْلَتَكُمْ عَلَى قُلُوبِكُمْ يُقِمِ اللَّهُ دَوْلَتَكُمْ عَلَى النَّاسِ۔ یعنی، تم اپنے دلوں کے اوپر اپنی حکومت قائم کرو، اللہ تمھاری حکومت لوگوں کے اوپر قائم کر دے گا۔ یہ نہایت صحیح بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیاسی اقتدار کا فیصلہ خدا کی طرف سے ہوتا ہے۔ اور خدا سیاسی اقتدار انھیں لوگوں کو دیتا ہے، جو اپنے آپ کو خدا کی نظر میں اس کا اہل ثابت کریں۔ اس حقیقت کو علامہ ابن تیمیہ نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: اللَّهُ يُنْصُرُ الدَّوْلَةَ العَادِلَةَ وَإِنْ كَانَتْ كَافِرَةً ، وَلَا يَنْصُرُ الدَّوْلَةَ الظَّالِمَةَ وَإِنْ كَانَتْ مُؤْمِنَةً - (الحسبة في الاسلام، صفحه 7) - یعنی، اللہ عادل حکومت کی مدد کرتا ہے خواہ وہ کافر ہو اور وہ ظالم حکومت کی مدد نہیں کرتا خواہ وہ مومن ہو۔ 9 فروری 1985 قدیم عربوں کے نزدیک سب سے بڑی انسانی صفت حماست تھی، یعنی بہادری۔ اس بہادری کا اظہار قدیم عرب میں سب سے زیادہ لڑنے بھڑنے میں ہوتا تھا۔ ایک حماسی شاعر کہتا ہے: إِذَا الْمُهْرَةُ الشَّقْرَاءُ أُرْكِبْ ظَهْرَهَا فَشَبَّ الإِلَهُ الْحَرْبَ بَيْنَ الْقَبَائِلِ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page