Urdu book · اوراقِ حکمت

پیش لفظ

Urdu book, p. 27

By Maulana Wahiduddin Khan

یعنی جب میرا گھوڑا سواری کے قابل ہو جائے، تو خدا اقبال میں جنگ بھڑکا دے ( تاکہ میں اپنی بہادری کے جوہر دکھا سکوں ) عربوں کا یہ لڑنے بھڑنے کا ذہن اتنا بڑھا ہوا تھا کہ اگر دشمن لڑنے کے لیے نہ ملتا تو وہ آپس ہی میں لڑنے لگتے۔ ایک شاعر کہتا ہے: وَأَحْيَانَا عَلَى بَكْرِ أَخِينَا إِذَا مَا لَمْ نَجِدُ إِلَّا أَخَانَا یعنی اور کبھی ہم اپنے بھائی قبیلہ بکر پر (حملہ کر دیتے ہیں)، جب کہ ہم کو (لڑنے کے لیے) اپنے بھائی کے سوا کوئی اور نہیں ملتا۔ عربوں کی یہ بہادری (حماسہ) ان کا بہت بڑا جوہر تھی۔ اسلام سے پہلے ان کی اس بہادری کا کوئی بلند نشانہ انھیں معلوم نہ تھا۔ اسلام نے انھیں ایک بلند نشانہ دے دیا۔ چنانچہ انھوں نے عالم میں انقلاب برپا کر دیا۔ 11 فروری 1985 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبر ہونے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ آپ کی شخصیت اپنے ماحول سے سراسر غیر متاثر نظر آتی ہے۔ مثال کے طور پر آپ کے زمانے میں عرب میں شاعری کا بہت زور تھا۔ شعر گوئی کو اس وقت سب سے بڑا کمال سمجھا جاتا تھا۔ وہی شخص قوم میں نمایاں ہوتا تھا جو شعر کی زبان میں اپنی بات کہہ سکے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلام میں شعر و شاعری کا مطلق کوئی اثر نہیں ملتا۔ اپنے زمانے کے ادبی رواج سے اس قدر غیر متاثر رہنے کی کوئی دوسری مثال غالباً تاریخ میں نہیں ملے گی۔ آپ کی زندگی کا یہ غیر معمولی پہلو یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ آپ ایک غیر معمولی انسان تھے۔ آپ خدا کے پیغمبر تھے۔ ایک مسلمان بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ وہ بہت دنوں سے صابن بنانے کا تجربہ کر رہے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page