پیش لفظ
Urdu book, p. 29
By Maulana Wahiduddin Khan
قدیم عرب شعرا کے یہاں ایسے اشعار ملتے ہیں، جن میں بڑی حکمت کی باتیں ہوتی ہیں ۔ مثلاً : سَبَکْنَاهُ وَنَحْسَبُهُ لُجَيْنَا فَأَبْدَى الكِيْرُ عَنْ خُبْثِ الحَدِيدِ یعنی ہم نے اس کو پگھلایا ، اور اس کو چاندی سمجھتے تھے ، مگر بھٹی نے ظاہر کیا کہ وہ زنگ آلود لوہا ہے۔ اس شعر میں تمثیل کی زبان میں بتایا گیا ہے کہ انسان بظاہر اچھا دکھائی دیتا ہے، مگر جب تجربہ ہوتا ہے، اسی وقت معلوم ہوتا ہے کہ کون کیا ہے، اور کون کیا نہیں ہے۔ اسی طرح ایک شعر یہ ہے : وَكَمْ عَلَى الْأَرْضِ مِنْ خُضْرٍ وَيَابِسَةٍ وَلَيْسَ يُرْجَمُ إِلَّا مَا لَهُ ثَمَرُ یعنی زمین پر کتنی ہی تر اور خشک چیزیں ہیں ، مگر پتھر اسی پر مارے جاتے ہیں جس میں پھل ہوں۔ اس شعر میں شاعر زندگی کی اس حقیقت کو بتاتا ہے کہ جس انسان کے پاس کچھ ہو ، اسی کے اوپر لوگ یورش کرتے ہیں ، جس کے پاس کچھ نہ ہو اس کے اوپر کوئی یورش نہیں کرے گا۔ 15 فروری 1985 شہد کے بارے میں میں نے ایک انگریزی مضمون پڑھا۔ اس میں دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی لکھا ہوا تھا کہ تقریباً 550 شہد کی مکھیاں مسلسل مشغول رہ کر تقریباً پچیس لاکھ پھولوں کا رس چوستی ہیں ، تب ایک پاؤنڈ شہد تیار ہوتا ہے: Some 550 busy bees have to dip their snouts into as many as 2.5 million flowers to make just one pound of honey.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader