پیش لفظ
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
شہد کی مکھی کے اندر بے شمار نشانیاں ہیں۔ مذکورہ واقعہ ان میں سے صرف ایک ہے۔ آدمی اگراس پر غور کرے، تو وہ خالق کے کمالات کے احساس سے سرشار ہوجائے۔ عربی زبان کا ایک مثل ہے کہ تجربہ کرنے والے سے معلوم کرو، عقل مند سے نہ پوچھو: سَلِ المُجَرِّبَ وَلَا تَسْأَلِ الحَكِيمَ یہاں حکیم (عقل مند) سے مراد وہ انسان ہے، جس کو صرف نظریاتی جانکاری حاصل ہو۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ باتوں کو وہی شخص جانتا ہے جس پر تجربہ گزرا ہو۔ جو شخص صرف نظریاتی واقفیت رکھتا ہو، وہ اصل حقیقتوں سے اسی طرح بے خبر رہتا ہے، جس طرح کاغذ کی کوئی کتاب زندگی کے عملی معاملات سے بے خبر ہو۔ مگر اس سے بھی زیادہ تلخ حقیقت یہ ہے کہ تجربہ کار کے بتانے کے باوجود آدمی باتوں کو سمجھ نہیں پاتا۔ آدمی کسی بات کی حقیقت صرف اس وقت سمجھتا ہے، جب کہ اس پر خود ذاتی تجربہ گزرے۔ جب کہ وہ تجربہ کر کے نقصان اٹھا چکا ہو۔ ذاتی طور پر تجربہ کی چکی میں پسنے سے پہلے بمشکل ہی کوئی شخص باتوں کی حقیقت کو سمجھ پاتا ہے۔ چاہے لفظی طور پر اس کو کتنا ہی زیادہ سمجھایا جائے۔ 17 فروری 1985 بشیر احمد راشد الامینی (پیدائش 1942) 1970 میں حج کرنے گئے۔ انھوں نے بتایا کہ مدینہ میں انھوں نے ایک نقشہ نما خریدا، جس میں مسجد وغیرہ کی تصویریں تھیں۔ انھوں نے اس کو پھیری والے سے لیا تھا۔ پھیری والے نے بتایا تھا کہ اس میں دس تصویریں ہیں مگر انھوں نے گھر پر جا کر دیکھا تو صرف آٹھ تصویریں تھی۔ وہ دوبارہ پھیری والے کے پاس شکایت کرنے کے لیے گئے۔ پھیری والے نے کہا ہم کیا کریں ہم تو ہول سیلر سے خریدتے ہیں۔ انھوں نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader