پیش لفظ
Urdu book, p. 32
By Maulana Wahiduddin Khan
اجتماعی اصلاح کے نام پر اٹھنے کو لیڈری سمجھتا ہوں، نہ کہ حقیقتاً اصلاحی کام۔ مگر میرا حال یہ ہے کہ میں کسی فرد کے اندر کوئی خرابی دیکھتا ہوں، تو فوراً دل بے چین ہو جاتا ہے۔ مثلاً 23 ستمبر 1978 کا واقعہ ہے۔ میرے یہاں مسلم اسکالر آئے۔ وہ سگریٹ پر سگریٹ پی رہے تھے۔ میں نے انھیں سمجھا بجھا کر آمادہ کیا کہ وہ سگریٹ چھوڑ دیں۔ چنانچہ انھوں نے سگریٹ پھینک دی، اور میری ڈائری میں یہ الفاظ لکھے: آج تاریخ 23 ستمبر 1978 سے میں نے سگریٹ چھوڑ دی۔ اللہ تعالیٰ مجھے اپنے اس عہد پر قائم رکھے۔“ اسی طرح حفظ الرحمن قاسمی 19 نومبر 1978 کو میرے دفتر میں آئے۔ ان کے ساتھی نے بتایا کہ وہ ہر شخص کی تقریر کو دہرا سکتے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے قاری طیب صاحب، مولانا انظر شاہ صاحب کی تقریروں کو بالکل انھیں کی آواز میں دہرادیا۔ تا ہم مجھے اس سے خوشی نہیں ہوئی۔ میں نے کہا کہ جب آپ کا حافظہ اتنا غیر معمولی ہے، تو آپ اس کو نقل کے بجائے کسی زیادہ بہتر کام میں استعمال کریں۔ مثلاً آپ انگریزی پڑھیں۔ اچھا حافظہ ہونے کی وجہ سے آپ بہت آسانی سے نئی زبان سیکھ سکتے ہیں۔ انھوں نے اتفاق کیا اور میری ڈائری پر یہ الفاظ لکھے: ”میں اللہ کو گواہ بنا کر یہ وعدہ کرتا ہوں کہ اس کے بعد کسی کی تقریر نہیں دہراؤں گا، ان شاء اللہ۔“ 20 فروری 1985 مولانا اسعد اسرائیلی سنبھل کے رہنے والے ہیں۔ ایک مرتبہ ان سے ملاقات ہوئی، اور دوران گفتگو ہندوستان کے فرقہ وارانہ فسادات کا ذکر ہوا۔ وہ الرسالہ کے اس نقطہ نظر سے متفق ہیں کہ یہ فسادات صحت مند سماجی رشتہ کو مجروح کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader