پیش لفظ
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
”فرقہ وارانہ فسادات میں مسلمان نہیں مرتے، جو چیز مرتی ہے، وہ دعوتِ حق کا امکان ہوتا ہے۔“ ہندوستان میں ہندؤوں اور مسلمانوں کے درمیان جو جھگڑا ہے، اس میں مسلمان صرف اپنے مادی نقصانات کا رونا روتے ہیں۔ کوئی بھی یہ نہیں سوچتا کہ ان جھگڑوں کی وجہ سے دونوں قوموں کے درمیان معتدل فضا ختم ہو گئی ہے، اور معتدل فضا کے بغیر دعوتی عمل ممکن نہیں۔ دعوت یعنی خدا کے پیغام کو انسانوں تک پہنچانے کا عمل۔ اگر مسلمانوں کے اندر دعوت کا درد ہو، تو وہ ہندؤوں سے اپنے تمام مادی جھگڑے یک طرفہ طور پر ختم کر دیں گے۔ وہ اپنے اور ہندؤوں کے درمیان انسانی خیر خواہی کا رشتہ بحال کرنے کے لیے ہر قربانی کو آسان سمجھیں گے۔ 21 فروری 1985 رومن امپائر 117ء میں شمالی برطانیہ سے لے کر بحر احمر اور خلیج فارس تک پھیلی ہوئی تھی۔ یہ مثل مشہور ہو گئی تھی: All roads lead to Rome رومن امپائر کے عروج کے زمانے میں اس کے اندر بیشتر یورپ، مشرقِ اوسط اور افریقہ کے شمالی ساحلی ممالک شامل تھے۔ رومیوں نے جو سڑکیں، عمارتیں اور پل بنائے، وہ اتنے شاندار تھے کہ ان کے بنائے ہوئے بعض پل اسپین میں دو ہزار برس بعد بھی آج تک باقی ہیں۔ رومن لا آج بھی یورپ، امریکا کے قانون کی بنیاد ہے، وغیرہ۔ مگر رومن امپائر اپنی ساری عظمتوں کے باوجود ختم ہو گئی۔ اب اس کا نشان یا تو پرانے کھنڈروں میں ہے یا ان کتابوں میں جو لائبریریوں کی زینت بننے کے لیے رکھی جاتی ہیں۔ اس طرح کے واقعات سے انسان اگر نصیحت لے تو وہ کبھی گھمنڈ میں مبتلا نہ ہو۔ یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader